مرکزی حکومت نے اہم مطالبات مان لئے۔ جنترمنتر پر جشن ۔ دنیا جھکتی ہے‘ جھکانے والا چاہئے: ابھیجیت دِپکے
دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کے دن مرکزی وزیر تعلیم کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنے مکتوب ِ استعفیٰ میں لکھا کہ 40 سال سے میں نے خود کو طلبا‘ اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لئے وقف کررکھا ہے۔
نئی دہلی: (آئی اے این ایس/ پی ٹی آئی) دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کے دن مرکزی وزیر تعلیم کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنے مکتوب ِ استعفیٰ میں لکھا کہ 40 سال سے میں نے خود کو طلبا‘ اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لئے وقف کررکھا ہے۔
میں ملک کے نوجوانوں کی امنگوں‘ جذبات و احساس اور جائز توقعات کا بڑا احترام کرتا ہوں۔ کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پیِ) نے اسے جمہوریت کی جیت قراردیا۔وزیر تعلیم کے استعفیٰ اور مرکز کی طرف سے اہم مطالبات تسلیم کرلئے جانے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے آج جنترمنتر پر اپنا احتجاج ختم کردیا۔
مرکزی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ سی جے پی نمائندوں کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے اعلان کیا کہ حکومت تمام پولیس کیسس واپس لینے پر آمادہ ہوگئی ہے۔ ایف آئی آر واپس لینے کی تحریری توثیق کی جائے گی۔ نیٹ پیپر لیک تنازعہ سے جڑے واقعات میں جن طلبا کی موت واقع ہوئی ان کے کنبوں کو جتنا ممکن ہو زیادہ سے زیادہ معاوضہ دیا جائے گا۔
سی جے پی قائدین نے احتجاجیوں سے کہا کہ وہ احتجاج ختم کردیں۔ حکومت کے تیقن سے ہمارے مطالبات کی تکمیل ہوگئی ہے۔ سی جے پی کی طرف سے سوروداس نے طلبا سے کہا کہ وہ احتجاج ختم کرکے گھر لوٹ جائیں۔ اب جنترمنتر پر دھرنا جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔ سی جے پی کے آفیشل ایکس ہینڈل پر ڈیموکریسی وِنس لکھا گیا۔
تنظیم کے بانی ابھیجیت دِپکے نے میڈیا سے خطاب میں کہا کہ ہم نے کردکھایا۔ دھرمیندر پردھان مستعفی ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں نے کیا کہا تھا‘ اس حکومت میں استعفے نہیں ہوتے۔ ہم کہتے ہیں کہ دنیا جھکتی ہے بس جھکانے والا چاہئے۔ پردھان کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر آپ لوگ خوفزدہ نہ ہوں اس حکومت کے سامنے نہ جھکے تو ہم کسی کا بھی استعفیٰ لے سکتے ہیں۔
یہ جمہوریت ہے اور حکومت کو جواب دہ ٹھہرانے کے لئے ہمیں اپنی آواز اٹھانی ہوگی۔ یہ لوگ ہماری وجہ سے اقتدا رمیں ہیں۔ ماحولیات کارکن سونم وانگ چک نے بھی اسے جمہوریت کی جیت بتایا۔ پی ٹی آئی کے بموجب نیٹ مسئلہ پر احتجاج کا سامنا کررہے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان آج مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لئے انفرادی وقار کا معاملہ نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جنتر منتر کی صورتِ حال کا استحصال ملک دشمن طاقتیں نہ کریں۔
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ہندی میں پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ روزِاول سے ہی نیٹ پیپر لیک کی ذمہ داری لیتے رہے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے اسے اپنے 36 روزہ احتجاج کی پہلی کامیابی قراردیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے جنہوں نے احتجاج کا ساتھ دیا تھا‘ اسے طلبا‘ نوجوانوں اور جمہوریت کی جیت قراردیا۔ کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ پردھان کا استعفیٰ سچائی کی جیت ہے اور وزیراعظم مودی کی ضد کی ہار۔
انہوں نے کہاکہ اب وزیراعظم مودی کے معافی مانگنے کی اور طلبا پر لاٹھیاں برسانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی باری ہے۔ 35 دن سے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ ان کا استعفیٰ سی جے پی نمائندوں کی مرکزی وزرا جتیندر سنگھ اور جے پی نڈا سے ایک اور دور کی بات چیت سے عین قبل سامنے آیا۔ دھرمیندر پردھان 2 مرتبہ وزیر تعلیم رہے۔
انہیں سال 2024 میں بھی مبینہ نیٹ اور نٹ پیپر لیک تنازعہ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی خبر آتی ہے جنترمنتر پر جشن منایا جانے لگا۔ مظاہرین رقص کررہے تھے۔ وہ ترنگا لہرارہے تھے۔
پس منظر میں چک دے انڈیا جیسے گیت سنائی دے رہے تھے۔ ابھیجیت دِپکے نے اپنے خطاب میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہا تھا۔ ابھیجیت نے کہا کہ اگر آپ نے ہمیں کاکروچ نہ کہا ہوتا تو میں ہندوستان واپس نہ آتا۔ اگر آپ نے ہمیں کاکروچ نہ کہا ہوتا تو ملک کے نوجوانوں سڑکوں پر نہ نکلتے۔ اگر آپ نے ہمیں کاکروچ نہ کہا ہوتا تو دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہ دیتے۔