حیدرآباد

نیلوفر ہاسپٹل کی حالت بد سے بدتر، آئی سی یو میں معصوم بچوں کے گرد گھوم رہے ہیں کاکروچ، والدین خوفزدہ

نیلوفر چلڈرن ہاسپٹل، جو ہزاروں بچوں کے علاج کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، ایک بار پھر سخت تنقید کی زد میں ہے۔ والدین نے شکایت کی ہے کہ آر آئی سی یو، یعنی وہ وارڈ جہاں شدید بیمار اور نازک حالت کے بچے زیرِ علاج ہوتے ہیں، وہاں کاکروچ کھلے عام نظر آرہے ہیں۔

نیلوفر چلڈرن ہاسپٹل، جو ہزاروں بچوں کے علاج کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، ایک بار پھر سخت تنقید کی زد میں ہے۔ والدین نے شکایت کی ہے کہ آر آئی سی یو، یعنی وہ وارڈ جہاں شدید بیمار اور نازک حالت کے بچے زیرِ علاج ہوتے ہیں، وہاں کاکروچ کھلے عام نظر آرہے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی صحت اور جان بچانے کے بجائے اب وہ انفیکشن اور گندگی کے خطرے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
جمعہ: دعا کی قبولیت، اعمال کی فضیلت اور گناہوں کی معافی کا سنہری دن،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
مولانا محمد علی جوہرنے تحریک آزادی کے جوش میں زبردست ولولہ اور انقلابی کیفیت پیدا کیا: پروفیسر ایس اے شکور
کےسی آر کی تحریک سے ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوئی – کانگریس نے عوامی مفادات کوبہت نقصان پہنچایا :عبدالمقیت چندا
اردو اکیڈمی جدہ کے وفد کی قونصل جنرل ہند سے ملاقات، سرگرمیوں اور آئندہ منصوبوں پر تبادلۂ خیال

والدین نے بتایا کہ کاکروچ اکثر ان مقامات پر دیکھے جاتے ہیں:

  • بچوں کے کھانے کے قریب
  • ہاسپٹل کے بستروں پر
  • آر آئی سی یو کی دیواروں اور کونوں میں
  • نوزائیدہ بچوں کے کان اور چہروں کے قریب

ایسے نازک وارڈ میں جہاں بچے وینٹی لیٹر، آکسیجن اور دیگر اہم علاج پر منحصر ہوتے ہیں، اس طرح کی لاپرواہی خطرناک انفیکشنز، چوٹوں اور سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

مریضوں کے تیمارداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے آر ایم او اور ہاسپٹل سپرنٹنڈنٹ کو کئی بار شکایت کی، مگر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ شاید انتظامیہ کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہی ہے جس کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔ ایک والد نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا:
"اگر ان کاکروچ کی وجہ سے ہمارے بچے کو کچھ ہوگیا تو ذمہ داری کون لے گا؟”

آر آئی سی یو یعنی ریسپائریٹری آئی سی یو بنیادی طور پر ان بچوں کے لیے ہے جو:

  • شدید سانس کی بیماریوں
  • پھیپھڑوں کے انفیکشن
  • جان لیوا حالتوں

میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے یونٹس کے لیے صاف ستھرے ماحول، اعلیٰ سطح کی صفائی اور باقاعدہ پیسٹ کنٹرول لازمی ہوتا ہے، لیکن والدین کے مطابق نیلوفر کی آر آئی سی یو میں یہ بنیادی تقاضے بھی پورے نہیں کیے جا رہے۔

عوام اور مریضوں کے لواحقین نے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جن میں شامل ہیں:

  • آر آئی سی یو کی مکمل سینیٹائزیشن
  • سخت پیسٹ کنٹرول
  • ہاسپٹل انتظامیہ کی جوابدہی
  • صفائی کے نظام کی مسلسل نگرانی
  • باقاعدہ انسپیکشن تاکہ دوبارہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو

والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے ہاسپٹل میں صفائی اور حفاظت کو سب سے زیادہ اہمیت ملنی چاہیے، اور اس قسم کی غفلت ناقابلِ قبول ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نیلوفر چلڈرن ہاسپٹل کے آر آئی سی یو میں کاکروچ کی موجودگی ایک سنگین ہائی جین بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جس پر فوری اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ والدین اپنے معصوم بچوں کی سلامتی کے لیے مسلسل خوف میں مبتلا ہیں، اور ہاسپٹل انتظامیہ کو فوری قدم اٹھانا ہوگا تاکہ مزید خطرات سے بچا جا سکے۔