مذہب

نمازی کی طرف بیٹھنے والے کا چہرہ

اگر نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنے دائیں یا بائیں نماز پڑھنے والوں کی طرف گھوم کر دیکھے اور یہ اندیشہ نہ ہو کہ نماز پڑھنے والوں کی توجہ ہٹ جائے گی تو اس میں کوئی حرج نہیں ،

سوال:- بعض صاحبان اپنی سنت نماز ادا کرکے دائیں بائیں یا سامنے سے دوسرے نمازی کی طرف چہرہ کرکے بیٹھتے ہیں، کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ (فیاض احمد، مانصاحب ٹینک)

متعلقہ خبریں
روزہ میں کن باتوں سے پرہیز ضروری ہے ؟
نماز میں ترجمہ پر توجہ
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات
فُضلات سے تیار شدہ گیس
شبِ براءت مقبولیت ِدعاء و استغفار کی رات

جواب:- اگر نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنے دائیں یا بائیں نماز پڑھنے والوں کی طرف گھوم کر دیکھے اور یہ اندیشہ نہ ہو کہ نماز پڑھنے والوں کی توجہ ہٹ جائے گی تو اس میں کوئی حرج نہیں ،

اگر نمازی کی توجہ ہٹ جانے کا اندیشہ ہو تو اس سے اجتناب کرنا چاہئے؛ کیونکہ کوئی بھی ایسا عمل درست نہیں جو نمازیوں کو اپنی عبادت سے بے توجہ کرتی ہو؛

البتہ یہ صورت کہ عین نمازی کی طرف کوئی شخص اپنا چہرہ کرکے بیٹھ جائے ، بہر حال مکروہ ہے، اور اس کی کراہت شدید ہے،

کیونکہ نماز میں بے توجہی پیدا ہونے کے علاوہ اس میں بظاہر اس شخص کی عبادت و بندگی کا ایہام ہوتا ہے، جس کے ٹھیک سامنے نماز پڑھنے والا کھڑا ہوا ہے؛ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:

الاستقبال إلی المصلی مکروہ سواء کان المصلی في الصف الأول أو في الصف الأخیر (ہندیہ: ۱؍۱۰۸)
٭٭٭