پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب” چائے” ہے _ "درویش حمید الدین شاہد”
ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض نے اپنے منفرد انداز میں کہا کہ “دودھ سے صرف ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں، جبکہ چائے سے رشتے، تعلقات، دوستی اور محبت مضبوط ہوتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ چائے صرف ایک مشروب نہیں بلکہ تنہائی میں خود سے گفتگو، سکون حاصل کرنے اور اپنائیت بانٹنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی ہے۔
حیدرآباد: صدر انجمن تاجران چائے تلنگانہ و نائب صدر نشین فیڈریشن آف آل انڈیا ٹی ٹریڈرس اسوسی ایشن جناب درویش حمید الدین شاہد نے کہا ہے کہ پانی کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب “چائے” ہے اور طبی اعتبار سے بھی اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ چائے انسان کو تازگی بخشتی ہے، تھکن دور کرتی ہے اور محفلوں کو زندگی عطا کرتی ہے۔
وہ عالمی یوم چائے (21 مئی) کے موقع پر ایوان احمد، ملک پیٹ میں منعقدہ خصوصی نشست “چائے پہ رائے” سے خطاب کررہے تھے، جس کا اہتمام پروفیسر محمد مسعود احمد، چیف آپریٹنگ آفیسر رینوا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ نے کیا تھا۔
جناب درویش حمید الدین شاہد نے خطاب کے دوران کہا کہ حیدرآبادی چائے کو عالمی سطح پر منفرد شناخت حاصل ہے اور ان کی تیار کردہ “لاسا لمسا” چائے کی پتی نہ صرف ہندوستان کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں بلکہ دنیا بھر میں استعمال کی جاتی ہے۔
انہوں نے “لاسا لمسا” نام کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ “لاسا” تبت کے دارالحکومت کا نام ہے، جہاں چائے کی ایجاد سے متعلق روایات پائی جاتی ہیں، جبکہ “لمسا” لفظ خوشبو اور لمس کے احساس سے ماخوذ ہے۔ اس طرح “لاسا لمسا” ایک ایسا مرکب نام ہے جو خوشبودار اور معیاری چائے کی نمائندگی کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے دادا جناب درویش عبدالحمید اور ان کے بھائی جناب درویش عبداللطیف نے 1933 میں حیدرآباد دکن میں چائے کے کاروبار کا آغاز کیا تھا، اور آج یہ روایت عالمی سطح تک پہنچ چکی ہے۔
پروفیسر محمد مسعود احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایوان احمد میں ہمیشہ ادبی، تہذیبی اور شعری سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور عالمی یوم چائے کے موقع پر اس منفرد نشست کا اہتمام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے درویش غیاث الدین کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی سطح پر “لاسا لمسا” برانڈ کو ایک معتبر شناخت عطا کی۔
رکن عاملہ انجمن تاجران چائے تلنگانہ جناب عبدالواحد نے کہا کہ دنیا بھر میں چائے نوش افراد “لاسا لمسا” کو اپنی اولین ترجیح تصور کرتے ہیں۔
ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض نے اپنے منفرد انداز میں کہا کہ “دودھ سے صرف ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں، جبکہ چائے سے رشتے، تعلقات، دوستی اور محبت مضبوط ہوتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ چائے صرف ایک مشروب نہیں بلکہ تنہائی میں خود سے گفتگو، سکون حاصل کرنے اور اپنائیت بانٹنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کی مصروف اور شور و غل سے بھری دنیا میں اگر کسی چیز میں سکون، لطف اور راحت ہے تو وہ ایک اچھی چائے ہے۔
اس موقع پر پروفیسر محمد مسعود احمد نے مخدوم ایوارڈ یافتہ ممتاز شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل اور جناب درویش حمید الدین شاہد کی گلپوشی و شال پوشی کی اور انہیں اپنی تصانیف پیش کیں، جبکہ جناب درویش حمید الدین شاہد نے حاضرین کو “لاسا لمسا” چائے بطور تحفہ پیش کی۔
بعد ازاں ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں ایک شاندار مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں شعراء نے چائے سمیت مختلف موضوعات پر اپنا کلام پیش کرکے سامعین سے بھرپور داد حاصل کی۔
مشاعرے کی نظامت معروف شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے اپنے منفرد اور مزاحیہ انداز میں انجام دی۔ مشاعرے میں ڈاکٹر فاروق شکیل، سمیع اللہ حسینی سمیع، پروفیسر محمد مسعود احمد، لطیف الدین لطیف، جہانگیر قیاس، ثناء اللہ انصاری وصفی اور سہیل عظیم نے اپنا کلام پیش کیا۔ آخر میں جناب محمد حسام الدین ریاض نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔