راہِ دین کا داعی، عابد، مجاہد، فیاض اور جری انسان: فاضل بیابانی مرحوم
حیدرآباد میں جاری مجلسِ علمیہ تلنگانہ وآندھرا کے عظیم الشان اجلاس میں شریک تھا کہ یکایک ایک ساتھی کے ذریعے اطلاع ملی کہ جناب فاضل بیابانی صاحب کا انتقال ہوگیا،
بندہ حیدرآباد میں جاری مجلسِ علمیہ تلنگانہ وآندھرا کے عظیم الشان اجلاس میں شریک تھا کہ یکایک ایک ساتھی کے ذریعے اطلاع ملی کہ جناب فاضل بیابانی صاحب کا انتقال ہوگیا، اولا یقین نہ آیا اوروں سے معلوم کیا تصدیق ہوئی تو قلب وجگر کی کیفیت بدل گئ، آپ ویسے کچھ دنوں سے ہارٹ اٹیک کی شکایت سے دوچار تھے، لیکن چلتے پھرتے ہنستے بولتے اچانک کے ہارٹ اٹیک نے جان ہی لے لی اناللہ واناالیہ راجعون۔
لمبا قد، ساوءنلا کلر، رعب دار چہرہ، کڑی آواز، کندھے پر تبلیغی توال، جب یہ سب کچھ تصور میں آرہا ہے تو جینور کی جان، ضلع عادل آباد کی پہچان فاضل بیابانی مرحوم کی تصویر سامنے آرہی ہے۔
مرحوم فاضل صاحب اصلا آپ کا خاندان ورنگل کے سلاخ پور سے تعلق رکھتا ہے، آپ کے والد کسی بہانے ضلع عادل آباد منتقل ہوئے تھے، چونکہ ورنگل میں بیابانی خاندان مشہور ہے لہذا لوگ آپ کے والد اور بچوں کو بیابانی کہنے لگے تو آپ کا خاندان بیابانی سے مشہور ہوگیا، آپ کے والد کی اس علاقہ میں ہجرت کے موقع پر سادی سی زندگی تھی، لیکن تمام بھائیوں کی جد وجہد، دنیوی کاوشیں اور دعوتی مزاج ونسبت نے اس پورے خاندان کو نہ صرف دولت سے نوازا، بلکہ اللہ تعالی نے عزت، شہرت، مقبولیت ، توفیقِ خدمتِ دین، جذبہء خدمتِ خلق، ان گنت مدرسوں اور تنظیموں کی معاونت ، اولادوں میں علماء وحفاظ ، ڈاکٹرس وانجینئرس ، تاجر وکنٹراکٹرس، سماجی ومعاشرتی مسائل کے حل میں مخلوقِ خدا کا مرجع جیسے مناصب وصلاحیتیں عطا کیں، جنازے تو روز اٹھائے جاتے ہیں۔
ملک الموت ہردن کسی نہ کسی کے گھر پر ضرور دستک دیتے ہیں،لیکن عزرائیل کا شکار بننے والے بعض ایسے ہوتے ہیں، جن کے انتخاب وانتقال سے صرف اولاد بے سہارا نہیں ہوتی بلکہ ان مرحومین کے پسماندگان پورے اہلِ علاقہ ہوتے ہیں، علاقہ کی تمام بیوائیں ہوتی ہیں، مساکین وغرباء ہوتے ہیں، جناب فاضل بیابانی مرحوم بھی ایسے ہی چند لوگوں میں سے تھے، احقر سے متعدد بار ملاقاتیں رہیں، ہر بار عزت کی نگاہوں سے دیکھنا، خیرخیریت دریافت کرنا، جینور حاضری کے موقع پر کھانے کی دعوت دینا،آفس پر اکرام کا معاملہ کرنا سب کچھ رہ رہ کر یاد آرہا ہے اللہ غریقِ رحمت فرمائے آمین
آج کل ایسی شخصیات کے چلے جانے پر ازحد اس لئے بھی افسوس ہوتا ہے کیونکہ ان عادتوں اور باتوں سے اولاد متصف نہیں ہوتی، لیکن ہمیں فاضل بیابانی صاحب مرحوم کی لائق وفائق اولاد سے یہ امید نہیں ، بلکہ وہ ان شاء اللہ تمام صفاتِ حسنہ میں اپنے والد کے ہم مثل نظر آئیں گے۔
فاضل بیابانی مرحوم عابد شخصیت تھے، نہ صرف وہ فرائض کا اہتمام کرتے تھے بلکہ نوافل کا بھی بطورِ خاص اہتمام کرتے تھے اور گھر میں بھی نماز وتلاوت کا اہتمام کرتے تھے اور فاضل صاحب کی نماز کا بندہ بھی شاہد ہے اور لوگ بھی عینی گواہ ہیں کہ وہ بہت سکون سے نماز پڑھتے تھے اس قدر سکون سے نماز پڑھتے تھے کہ گویا ان کو کچھ کام ہے ہی نہیں، جبکہ وہ انتہائی مصروف شخص تھے، یہ ان کا خاص وصف تھا۔
وہ بڑے فیاض اور سخی انسان تھے کتنے مدرسے ، کتنی مسجدیں ،کتنی بیواوءں اور کتنے بے سہاروں کا وہ سہار تھے اللہ جانے ۔۔۔ان کی اس فیاضی سے صرف مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم بھی مستفید ہوتے تھے، جناب فاضل بیابانی جری انسان تھے ان کی جراءت مندی کا اعلی مظاہرہ اس وقت ہوا جبکہ حالیہ عرصہ میں فسادیوں کے فساد کے سبب جینور جلادیا گیا تھا، کئ دن تو مسلمانوں کو جلتے دکانات کی صفائی میں لگ گئے، اور اس کے بعد دکانات کے کھولنے کے راستے مسدود دکھائی دینے لگے۔
اعلی افسران تک لوگوں نے جاجاکر اپیلیں اور گزارشیں کیں، آپ ان دنوں جماعت میں تھے لیکن جب آپ میعاد مکمل کرکے واپس آئے تو آپ کی جراءت مندی کے مظاہرہ نے جلے ہوئے بازار کو گلِ گلزار کردیا، آپ کی یہ جراءت مندی بعضوں کو مزاج کی سختی محسوس ہوتی، لیکن آپ کی یہ اصول پسندی کی صفت تھی، حیثیتِ انسان ہر انسان خطار ہوتا ہے لیکن جب کسی انسان کے اس قدر عظیم حسنات بلکہ ملت پر احسانات ہوں تو خود بھی درگزر کرنا چاہئے اور خدا سے بھی دعاء کرنا چاہئے کہ باری تعالی سئیات کو درگزر کرے اعلی علیین میں مقامِ بلند عطافرمائے۔
حقیقت یہ ہیکہ انسان کی اہمیت کا اندازہ اس کے ہونے کے وقت میں نہیں ہوتا بلکہ نہ ہونے کے وقت میں ہوتاہے اہلیانِ جینور کو بالخصوص فاضل بیابانی مرحوم, اب بار بار نہ صرف یاد آئیں گے بلکہ ان کی ضرورت محسوس ہوگی، اور اس اتوار کی صبح وہ کبھی نہیں بھولیں گے جس اتوار کو ان پر غم کا پہاڑ ٹوٹا، لیکن اللہ کے پاس بندوں کی کمی نہیں، اولاد ہوکہ عوام ، بڑے جب جاتے ہیں تو چھوٹوں کو بڑا بننے کا موقع ملتا ہے ، لیکن ہرمقام اور عہدہ کی کرسی اہم نہیں ہوتی بلکہ گدے نشیں کی صفات اہم ہوتی ہیں، لہذا ہمیں ان کی جیسی عبادت، خدمت ، سخاوت اور دعوتِ دین کا حامل بننا چاہئے۔
بندہ کو جیسے ہی فاضل بیابانی صاحب کے وصال کی اطلاع ملی دارالعلوم حراپور اندرویلی میں تلاوت اور دعاءِ مغفرت کی مجلس جمائی گئ، اساتذہ وطلبہ سبھی نے دعاءِ مغفرت مانگی۔
یقینا یہ موقع آپ کے برادران جناب احمد بیابانی صاحب جناب ممتاز بیابانی صاحب اور جمیع اہلِ خاندان کے لئے صبرآزما کا موقع ہے باری تعالی ان تمام کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے ،ہمت عطافرمائے اور مرحوم فاضل بیابانی صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے آمین
مجھے افسوس ہیکہ میں اس موقع پر سفر کی بناء پرجنازہ میں حاضر نہ رہ سکا،لیکن زبان پر دعاء کا ورد ہے، چونکہ بیابانی خاندان میرا محسن ہے اور بتوفیقِ الہی بندہ کے ذریعے انجام دی جانے والی خدمات میں نہ صرف معاون ہے بلکہ ہمت وحوصلہ کا باعث ہے اور والدِ مرحوم سے دیرینہ مراسم کی بناء پر اکرام کا حقدار ہے۔
اعتراف خدمات واظہار تعزیت
داعی کبیرجناب الحاج فاضل بیابانی صاحب مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ
بہ ایماء علماء کرام و مفتیان عظام متحدہ ضلع عادل آباد تلنگانہ انڈیا
مولانا مفتی امتیاز احمد خان مفتاحی ماہرنقشبندی نرملی
امام وخطیب مسجد تاج و خادم جامعتہ المومنات نرمل تلنگانہ انڈیا
یہاں پر ایک بزرگ تھے بڑے فاضل بیابانی
بہت سے خیر کے کاموں کے تھے جو خیر سے بانی
وہ فکر دیں میں ملتے تھے منور ان کی پیشانی
مروت کا حسیں پیکر نہیں تھا کوئی بھی ثانی
کہ ایماں کی ہی نسبت سے سفر کرتے تھے وہ اکثر
جو ملتا ان سے کہتا تھا یہ صورت جانی پہچانی
تعلق ان کا سب سے تھا کہ اپنے غیر بھی مانے
تواضع ان میں دیکھی تھی کہ اس سے ہوتی حیرانی
ضعیفوں اور چھوٹوں سے تعلق مخلصانہ تھا
عقیدت کی فراوانی محبت کی وہ ارزانی
سکوں آرام سے کرتے تھے ہر وہ کام اے ہمدم
کوئی مشکل نہیں کہتے ملے گی اب تو آسانی
ہمیں رہ رہ کے ان کی بات ہر اک یاد آتی ہے
و فکروں والی باتیں تھیں تھا جذبہ ایسا ایمانی
وہ جاں اپنی لٹاتے تھے وہ زربھی تو لٹاتے تھے
کہ سیرت ان کی ایمانی کہ صورت ان کی رحمانی
رواں آنسو ہوئے انکھوں سے رحلت کی خبر پائی
مکمل کیسے مدحت ہو مری ہے تنگ دامانی
خدا بخشے دعا کرتے ہی جاتے ہیں یہاں سارے
سمیٹو ذکر کوان کے نہ ہو ہمدم یہ طولانی
میسر ان کے جیسے تو بہت کامیاب ہیں اب تو
وہ تن من دھن لٹاتے تھے کہ فکریں ان کی عرفانی
چلے آئے ے محبت میں سبھی جے نور کو فورا
دلوں پر ان کا قبضہ تھا حقیقی یہ ہے سلطانی
تلاوت ذکر میں پایا کہ خدمت مشورے میں بھی
رہے کوئی وہاں موسم نہیں جاتی ثنا خوانی
لہو اپنا جلایا تھا وہ زربھی تو لٹایا تھا
کیے سیراب جی بھر کے کیے کار گلستانی
وہ ہر پل یاد ائیں گے کہاں ہم بھول پائیں گے
کہ ہو ممتاز بھی احمد نہیں جاتی پریشانی
خدا مقبول خدمت کر عطا کر فضل اپنا تو
میری مدحت تو کم کم ہے تیری قدرت تو لافانی
کئی احباب کی خواہش لکھو تم اب کلام ایسا
محبت کا جو مظہر ہو کہ ہو رقت بھی وجدانی
سکوں پاتے تھے مل کر ہم تھی ایسی شخصیت ماہرؔ
بسی ہے آج نظروں میں وہ صورت ایک نورانی
✍️مولانا سیدرضوان اسعدی
صدر منبر ومحراب فاؤنڈیشن تلنگانہ