مشرق وسطیٰ

امریکہ اور عرب ممالک اسرائیل اور حماس کے تنازعات کو کم کرنے کے لیے کوشاں

امریکہ اور عرب ممالک اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر سمجھوتہ ہو سکے۔

واشنگٹن: امریکہ اور عرب ممالک اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر سمجھوتہ ہو سکے۔

متعلقہ خبریں
جنگ بندی یا محض دکھاوا، غزہ، لبنان اور ایران میں حملے جاری
عرب ممالک میں بے روزگاری میں ریکارڈ اضافہ: سروے رپورٹ
ایران عالمِ اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہے صیہونی صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں
اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے 7 لاکھ افراد کا احتجاجی مظاہرہ
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی

وال اسٹریٹ جرنل نے اتوار کے روز مصری حکام کے حوالے سے بتایا کہ پیرس میں ہونے والے اجلاس میں حماس نے اس بات پر لچک دکھائی ہے کہ جنگ بندی کب تک رہے گی۔

اسرائیلی وفد جنگ بندی کی مدت اور کثیر تعداد میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر بات کرنے پر آمادہ ہے، لیکن غزہ کے باشندوں کو پٹی کے شمالی حصے میں واپس آنے کی اجازت دینے یا جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کی ضمانت دینے سے ہچکچا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے غزہ سے اسرائیل کے خلاف زبردست حملہ کیا تھا، جس میں 1200 افراد کو ہلاک اور 240 کے قریب اغوا کر لیے گئے۔ اس کے بعد اسرائیل نے جارحانہ جنگی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ مقامی حکام نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں اب تک کم از کم 29,500 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

گذشتہ جنگ بندی میں کئی بار توسیع کے بعد یکم دسمبر کو ختم ہوئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 100 سے زائد یرغمالی ابھی تک غزہ میں حماس کے قبضے میں ہیں۔