مشرق وسطیٰ

بہت قتل عام ہو چکا ،اسرائیل اپنا ہاتھ روکے: جرمنی

جرمن چانسلر اولاف شولز نے اسرائیل کے دورے کے موقع پر غزہ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری قتل عام روکنے پر زور دیا ہے۔ غزہ میں 31 ہزار سے زائد فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں اور تقریباً پورے غزہ کو تباہ کر کے لاکھوں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

برلن: جرمن چانسلر اولاف شولز نے اسرائیل کے دورے کے موقع پر غزہ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری قتل عام روکنے پر زور دیا ہے۔ غزہ میں 31 ہزار سے زائد فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں اور تقریباً پورے غزہ کو تباہ کر کے لاکھوں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
نیتن یاہو نے کم وسائل میں بھی لڑنے کا اعلان کیا
رفح پر اسرائیلی حملہ، خون کی ہولی کا باعث بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او
غزہ میں پہلا روزہ، اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا
اسرائیل رہائشیوں کو رفح سے غزہ کے جنوب مغربی ساحل پر المواسی منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے
اسرائیلی حملوں سے تباہ غزہ کی بحالی کیلئے 40 ارب ڈالر درکار ہوں گے: اقوام متحدہ

انہوں نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کو خوفناک حد تک انسانیت کے لئے بھاری قیمت قرار دیا ہے۔

اسرائیل میں جرمن چانسلر نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم فلسطینیوں کو اس حال میں دیکھتے رہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے اور جو غزہ کی پٹی پر بھوک اور تباہی سے دوچار ہیں۔

شولز، اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد القدس میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے،انہوں نے شہریوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور غزہ کے لوگوں کے لیے انتہائی ناکافی امداد پہنچنے دینے پر اپنی تشویش وزیر اعظم کے سامنے رکھی جہاں امدادی اداروں کے مطابق قحط پڑا ہوا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پانچ ماہ تک اسرائیل کے ساتھ یک جان دوقالب کی طرح حمایت کرنےوالے کئی دوسرے ملکوں کی طرف سے بھی اب اسی طرح کی تشویش اور خدشات کا اظہار کیا جانے لگا ہے البتہ جرمن رہنما کی طرف سے یہ انتباہ غیر معمولی طور پر سخت تھا۔

واضح رہے کہ بلا شبہ جرمنی بھی وہی ملک ہے جس نے اسرائیل کے حق دفاع پر ہمیشہ زور دیا ہے۔

شولز نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کی حالت جس قدر تشویش ناک ہوتی جائے گی اسی قدر سوال جنم لیتا رہے گا حتی یہ سوال بھی اہم نہ رہے گا کہ ہدف کتنا اہم تھا،ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ کے پاس اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی کابینہ نے گزشتہ جمعہ کے روز رفح پر حملے کے لیے فوجی منصوبے کی باضابطہ منظوری دی ہے۔

شولز نے اس دورہ اسرائیل سے پہلے اردن کے شاہ عبداللہ سے اردن میں ملاقات کی تھی۔جو کہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ عقبہ پر ہوئی۔

جرمن چانسلر نے غزہ میں امدادی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹوں کے بارے میں کہا کہ میں نے اس بارے میں نیتن یاہو سے بات کی ہے کہ اس سلسے کی حالت بہتر کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم فلسطینیوں کو بھوک کے خطرے سے دوچار دیکھ کر محض کھڑے نہیں رہ سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایسے نہیں ہو سکتے نہ ہی یہ وہ چیز ہو سکتی ہے جس کے لیے ہم کھڑے ہیں۔

دو ریاستی حل کے بارے میں چانسلر شولز نے کہا کہ پائیدار استحکام اونچی دیواروں سے نہیں آئے گا اور نہ ہی یہ گہری خندقوں سے آئے گا۔انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ استحکام مثبت تناظر سے ممکن ہوگاایسا مثبت تناظر جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے ہومطلب یہ کہ دو ریاستی حل ضروری ہے۔انہوں نے اس پس منظر میں فلسطینی انتظامیہ کو بھی اصلاحات کے لیے کہا نیز، انفرادی سطح پر بہتری کے ساتھ ساتھ اجتماعی انفراسٹرکچر کومضبوط کرنے کے لیے بھی انہوں نے زور دیا۔

چانسلر نے مزید کہا کہ اسرائیل کی نئی نسلوں کے لیے پائیدار استحکام و سلامتی فلسطینیوں سے جڑا ہوا ہے جبکہ دہشت گردی کو بھی صرف فوجی ذرائع سے شکست نہیں دی جا سکتی ہے۔

اس کے جواب میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایک معاہدہ جو اسرائیل کے نزدیک کمزور بنیادوں پر ہوگا وہ ایک ناپائیدار امن ہی لا سکتا ہے۔