حیدرآباد

یہ کوئی جنگ زدہ ملک نہیں،پٹن چیرو میں ہوئی حائیڈرا کی انہدامی کارروائی کا منظرہے

سرکاری مشنری کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے مقامی لوگ اور متاثرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ Hydra صرف غریب اور متوسط طبقہ کے گھروں پر کارروائی کیوں کرتی ہے؟

حیدرآباد: حیدرآباد کے پٹن چیرو علاقہ کے پٹیل گوڑہ میں تین ماہ قبل سرکاری ادارہ "Hydra” نے کئی گھروں کو غیر قانونی تعمیرات قرار دیتے ہوئے زمین بوس کر دیا تھا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان گھروں کے ملبہ کو ابھی تک صاف نہیں کیا گیا، جس سے مقامی رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس
نعتیہ کلام دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتا ہے: سعداللہ خان سبیل

یہ وہ گھر تھے جو غریب اور متوسط طبقہ کے لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی سے تعمیر کیے تھے۔ اپنے خوابوں کا گھر آنکھوں کے سامنے زمین بوس ہوتے دیکھ کر متاثرین بے بسی کے عالم میں ہیں۔ مزید اذیت یہ ہے کہ یہ لوگ نہ صرف ان شیشے اور کنکریٹ کے ڈھیروں کو برداشت کر رہے ہیں، بلکہ ان گھروں کیلئے لیے گئے قرضوں کی EMI بھی ادا کر رہے ہیں، چاہے گھر موجود نہ ہوں۔

سرکاری مشنری کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے مقامی لوگ اور متاثرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ Hydra صرف غریب اور متوسط طبقہ کے گھروں پر کارروائی کیوں کرتی ہے؟

چیف منسٹر کے قریبی رشتہ داروں کی زمینوں پر غیر قانونی تعمیرات ہوں یا وزراء اور ایم ایل اے کے تالابوں پر قائم عالیشان عمارات، ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟

متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ قانونی طور پر اس مسئلہ کے حل کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ حکومتی بے حسی اور Hydra کی جارحانہ کارروائیوں کے باعث ان کے لیے زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔

متاثرہ گھروں کے ملبے کو جلد از جلد صاف کیا جائے۔ متاثرین کو ان کے گھروں کے نقصان کا معاوضہ دیا جائے۔ غیر قانونی تعمیرات کے نام پر صرف غریبوں کو نشانہ بنانے کے بجائے طاقتور اور بااثر افراد کے خلاف بھی یکساں کارروائی کی جائے۔

یہ تباہی شام یا غزہ کی طرح کسی جنگ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سرکاری مشنری کی غیر متوازن اور دوہرے معیار پر مبنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ حکومت سے انصاف کی امید کر رہے ہیں، لیکن اس وقت ان کی آواز صدا بصحرا معلوم ہو رہی ہے۔