ایشیاء

مودی کے دورہ اروناچل پردیش پر چین کا احتجاج

چین نے پیر کے دن کہا کہ اس نے وزیراعظم نریندر مودی کے گزشتہ ہفتہ دورہ اروناچل پردیش پر ہندوستان کے ساتھ سفارتی احتجاج کرایا ہے۔

بیجنگ: چین نے پیر کے دن کہا کہ اس نے وزیراعظم نریندر مودی کے گزشتہ ہفتہ دورہ اروناچل پردیش پر ہندوستان کے ساتھ سفارتی احتجاج کرایا ہے۔

متعلقہ خبریں
اروناچل میں مشتبہ انتہاپسند نے سابق رکن اسمبلی کو گولی ماردی
شی جنپنگ G20 چوٹی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے
ملک میں روس جیسی آمرانہ صورتحال: کجریوال
کیا جلد کی رنگت پر ملک کے عوام کی صلاحیتوں کا فیصلہ ہوگا؟ : مودی (ویڈیو)
ویڈیو: کانگریس نے کارکنوں کے گھروں کوکرپشن کا گودام بنادیا۔ اے پی میں وزیراعظم کاالزام

اس نے اس علاقہ پر پھر اپنا حق جتایا اور کہا کہ ہندوستانی وزیراعظم کا وہاں جانا سرحدی تنازعہ کو صرف پیچیدہ کرے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے دن اروناچل پردیش میں سیلا سرنگ کا افتتاح کیا تھا۔

چین دعویٰ کرتا ہے کہ اروناچل پردیش‘ جنوبی تبت ہے۔ ہندوستانی قائدین جب بھی وہاں کا دورہ کرتے ہیں چین اپنا یہ دعویٰ دُہراتا ہے۔ بیجنگ نے اس علاقہ کو زنگنان کا نام بھی دیا ہے۔

ہندوستان اروناچل پردیش پر چین کے علاقائی دعویٰ کو باربار مسترد کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اروناچل ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔

پیر کے دن بیجنگ میں میڈیا بریفنگ میں سرکاری میڈیا نے جب مودی کے دورہ ئ اروناچل کے بارے میں پوچھا تو چینی وزارت ِ خارجہ کے ترجمان نے جواب دیا کہ زنگنان چین کا علاقہ ہے۔ چین کبھی بھی نام نہاد اروناچل پردیش کو تسلیم نہیں کرتا۔