امریکی J1، F1 اور H1Bویزا پالیسیوں میں تبدیلی کا اطلاق صرف انڈیا پر نہیں : مارکوروبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز یہاں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں میں بامعنی پیش رفت کے اشارے دئے ہیں۔
نئی دہلی: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز یہاں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں میں بامعنی پیش رفت کے اشارے دئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ آج دیر رات اس معاہدہ سے متعلق کوئی بڑا اعلان کر سکتے ہیں۔ روبیو نے کہاکہ ایران کی صورتحال کے بارے میں میرا خیال ہے کہ آج کچھ دیر بعد مزید رپورٹس سامنے آسکتی ہیں۔ آئندہ اعلانات کی ذمہ داری میں صدر پر چھوڑتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک ایسے خاکے پر پیش رفت ہوئی ہے، جو اگر کامیاب رہا تو اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ یہ کہنا کافی ہوگا کہ کچھ اہم پیش رفت ہوئی ہے اگرچہ یہ ابھی حتمی نہیں ہے۔ روبیو نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے کے لئے ایران کی مکمل منظوری اور پھر اس پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہوگا۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ معاہدہ آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی خدشات کا حل پیش کرے گا جسے ان کے مطابق ایران نے بڑی حد تک محدود کر رکھا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران مجوزہ معاہدے کو قبول کرے اور اس پر عمل کرے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دہرایا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ روبیو نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو کوئی اچھی خبر مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ معاہدہ ایک ایسے عمل کی شروعات کرے گا جو بالآخر ہمیں وہاں لے جا سکتا ہے جہاں صدر ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں یعنی ایسی دنیا جہاں ایران کے جوہری ہتھیاروں سے خوف یا تشویش باقی نہ رہے۔آئی اے این ایس کے بموجب امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے اتوار کے کہا کہ امریکہ وہ ملک ہے جو ہر ایک کو خوش آمدید کہتا ہے۔ انہوں نے ہندوستانیوں کے خلاف نسل پرستانہ ریمارکس کو ”احمق“ لوگوں کی حرکت قرار دیا۔
انہوں نے اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ نئی دہلی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ وہ ایسے تبصروں کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن اور دیگر مقامات پر تبصرہ کرنے والے یقینا ہوں گے کیونکہ دنیا کے ہر ملک میں احمق پائے جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں بھی بے وقوف لوگ ہوں گے۔ امریکہ میں احمق لوگ ہیں جو ہمیشہ ایسی بیہودہ باتیں کرتے رہتے ہیں۔
امریکہ وہ ملک ہے جو ہر ایک کو گلے لگاتا ہے۔ ہماری قوم نے امریکہ آنے والوں کو مالا مال کیا ہے۔ ہمارے ملک میں ساری دنیا سے لوگ آئے اور امریکی بن گئے۔ وہ امریکی طرزِحیات کا حصہ بن گئے اور انہوں نے اس ملک کو فیض پہنچایا۔ امریکی معیشت میں ہندوستانی برادری کے رول کو نمایاں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی کمپنیوں نے امریکہ کی معیشت میں 20بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ اس میں اضافہ ہوتا رہے۔ ہندوستانیوں کی مہارت بھی قابل قدر ہے۔ روبیو نے کہا کہ امریکہ اپنے مائیگریشن سسٹم کی جدید کاری کررہا ہے۔ ہم نے امیگریشن پالیسی میں جو تبدیلیاں کی ہیں وہ ساری دنیا پر لاگو ہوتی ہیں، صرف ہندوستان پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سال میں امریکہ میں دو کروڑ سے زائد لوگ غیرقانونی طور پر داخل ہوئے۔ انہوں نے اِس چیالنج سے نمٹنے کی اہمیت پر زور دیا۔ J1ویزا، F1 ویزا اور H1Bویزا میں حالیہ تبدیلیوں پر تشویش پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اب جو تبدیلیاں ہورہی ہیں وہ کسی ایک ملک کیلئے نہیں ہیں۔
ان کا اطلاق دنیا کے سارے ممالک پر ہوتا ہے۔ ہم جدیدکاری کے دور سے گزر رہے ہیں۔ امریکہ میں مائیگریشن کا بحران پیدا ہوا تھا لیکن یہ ہندوستان کی وجہ سے نہیں تھا۔ گزشتہ چند برس میں دو کروڑ سے زائد لوگ غیرقانونی طور پر ہمارے ملک میں داخل ہوئے۔ ہر ملک کو اپنے قومی مفاد کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امیگریشن نے ہمارے ملک کو مالا مال کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اِس نظام کو بدلتے وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ امریکہ میں ہر سال 10لاکھ لوگ ملک کے مستقل شہری بن جاتے ہیں۔ روبیو نے کہا کہ خود میرے ماں باپ 1956ء میں کیوبا سے آکر امریکہ کے مستقل شہری بنے تھے۔ امریکہ میں فی الحال نظام کی اصلاح جاری ہے۔ انہوں نے مانا کہ اس دوران کچھ تکلیف پیش آسکتی ہے۔