حیدرآباد

رواں سال ٹمریز اسکولوں میں 92 ہزار طلبہ کو داخلے، انیس الغرباء کا ٹمریز سے کوئی تعلق نہیں: عائشہ خانم

ٹمریز کے اسکولوں میں 5 ویں جماعت تا انٹر میڈیٹ تک اقلیتی اور غیر اقلیتی طبقات کے بچوں کو مفت داخلے دئیے جاتے ہیں۔ جہاں انگریزی میڈیم کی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبا وطالبات کو کتابیں، مکمل ڈریس، ہاسٹل کی سہولت اور قیام وطعام فراہم کیا جاتا ہے

حیدرآباد: تلنگانہ مائنا ریٹیز ریسیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس سوسائٹی (ٹی جی ایم آر ای آئی ایس) کے تحت چلائے جانے والے اسکولس میں جاریہ تعلیمی سال2024-25 کے لئے 92,844 طلباء کے داخلے مکمل ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود27416 طلبا کے داخلوں کی گنجائش موجود ہے۔

متعلقہ خبریں
مانو میں بی ٹیک و ایم ٹیک و ایم سی اے میں داخلے
جامعۃ المؤمنات کے جدید داخلہ فام کی اجرائی
ایس ایس سی /انٹرٹاس کی داخلوں کیلئے خصوصی مہم
سٹ ون میں داخلے، پچاس فیصد فیس میں رعایت
ممتاز کالج میں ڈگری اور انٹر کورسس میں داخلے جاری

جہاں تک اقلیتی طلبا کا تعلق ہے جاریہ سال منظورہ90,224 کوٹہ کے منجملہ 6,3271 طلبہ کو داخلے دئیے گئے ہیں۔ مزید26953 اقلیتی طلبا کے داخلوں کی گنجائش موجودہے۔ جاریہ سال غیر اقلیتی طلباء کیلئے30,056 داخلوں کیلئے کوٹہ مختص کیا گیا جس میں 29,593 طلبا داخلے حاصل کرچکے ہیں۔

 ٹمریز کے اسکولوں میں 5 ویں جماعت تا انٹر میڈیٹ تک اقلیتی اور غیر اقلیتی طبقات کے بچوں کو مفت داخلے دئیے جاتے ہیں جہاں انگریزی میڈیم کی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبا وطالبات کو کتابیں، مکمل ڈریس، ہاسٹل کی سہولت اور قیام وطعام فراہم کیا جاتا ہے۔ سکریٹری ٹمریز عائشہ مسرت خانم(آئی اے ایس) نے آج ایک پریس کانفرنس میں یہ بات بتائی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جاریہ تعلیمی سال کیلئے24 جنوری سے ٹمریز کے ریاست بھر کے204اسکولوں میں پانچویں تا انٹر میڈیٹ کلاسس میں داخلوں کی خصوصی مہم شروع کی گئی تھی۔ ٹمریز کے اساتذہ اسٹاف، سرپرستوں، مساجد کمیٹیوں کے نمائندوں کے تعاون سے شہر اور اضلاع کے عوام کو داخلوں کیلئے ترغیب دی گئی۔

چنانچہ12 جون کو نئے تعلیمی سال کے آغاز تک90,224 اقلیتی کوٹہ کے منجملہ63,271 طلبا نے داخلہ حاصل کیا۔ جبکہ غیر اقلیتی 30056 کوٹہ کے منجملہ29,593 طلباء نے داخلہ حاصل کیا۔ اس طرح جملہ کوٹہ12,0280 کے منجملہ92,864 طلباء نے داخلہ حاصل کیا ہے۔

اس طرح مزید27ہزار اقلیتی طلباء کے داخلوں کی گنجائش موجود ہے۔ سکریٹری عائشہ خانم نے مسلم اقلیتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ٹمریز کے اسکولوں میں داخلہ دلانے کیلئے پہل کریں ٹمریز کے اسکولوں میں تعلیم یافتہ اساتذہ، قابل اسٹاف کی نگرانی میں معیاری تعلیم کی سہولت سے استفادہ کریں۔

سکریٹری نے بتایا کہ انٹر میڈیٹ کے بعد ٹمریز کے طلباء نے مسابقتی امتحانات ایمسٹ، نیت، جے ای ای اور دیگر امتحانات میں بھی اچھے رینک حاصل کئے ہیں۔ ٹمریز اسکولس کے ساتھ12 ووکیشنل کورسس میں  بھی طلبا کو داخلہ کی سہولت حاصل ہے۔

ووکیشنل کورسس کی تکمیل کے بعد100سے زائد طلبا کو بڑی کمپنیوں کی جانب سے منتخب کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عائشہ خانم نے بتایا کہ 2016 میں ٹمریز کے قیام کے بعد سے آج تک داخلوں کا کوٹہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ ہر سال کئی نشستیں مخلوعہ رہ جاتی ہیں۔ بالخصوص مسلم اقلیتی کا کوٹہ کبھی پورا نہیں ہوا ہے۔

لوگ اپنے بچوں کو خانگی اسکولس میں ہزاروں روپے فیس دے کر داخلہ دلاتے ہیں لیکن ٹمریز کے اسکولوں میں مفت داخلہ کے ساتھ ساتھ میعاری تعلیم کی سہولت سے ا ستفادہ کرنا نہیں چاہتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ٹمریز کے اسکولس زیادہ تر کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔

 حکومت ان اسکولوں کے لئے اراضیات کے حصول اور ذاتی عمارتوں کی تعمیر کیلئے کوشاں ہے۔ صدرنشین ٹمریز بھی ٹمریز کیلئے مختلف ذرائع سے فنڈ کے حصول کیلئے کوشش کررہے ہیں۔

انیس الغرباء کی عمارت میں ٹمریز کے ہیڈ آفس کے قیام سے متعلق سوال پر سکریٹری عائشہ خانم نے بتایا کہ حکومت نے وقف بورڈ سے یہ عمارت کرایہ پر حاصل کی ہے اور اس عمارت کو ٹمریز کے دفتر کیلئے الاٹ کیا گیا ہے۔ انیس الغرباء ادارے سے ٹمریز کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم کرایہ دار ہیں اور وقف بورڈ کو اس عمارت کا کرایہ ادا کررہے ہیں۔

a3w
a3w