بی سی بی کے تین ڈائریکٹرز نے ایک ہی دن دیا استعفیٰ
کھیل وزیر امین الحق نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ یہ جانچ کروانا چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش اس سال ہندوستان اور سری لنکا میں ہوئے ٹی-20 ورلڈ کپ میں کیوں حصہ نہیں لے سکا۔ گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ اجلاس میں انہوں نے بی سی بی میں سیاسی جانبداری کے الزامات کی بھی تحقیقات کرانے کی بات کہی۔
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے تین ڈائریکٹرز فیض الرحمان، شنین تنیم اور محراب عالم چوہدری نے طویل اجلاس کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔
ہفتہ کو ڈھاکہ میں منعقدہ طویل بورڈ اجلاس کے چند گھنٹوں بعد ہی تینوں ڈائریکٹرز نے استعفیٰ دے دیا۔ فیض الرحمان نے اجلاس ختم ہوتے ہی بورڈ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا، جبکہ شنین تنیم اور محراب عالم چوہدری نے کچھ دیر بعد یہی قدم اٹھایا۔ اس طرح بی سی بی انتخابات کے چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں استعفیٰ دینے والے ڈائریکٹرز کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اجلاس میں ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے فیض، تنیم اور چوہدری نے یہ فیصلہ کیا۔ اجلاس کی صدارت صدر امین الاسلام نے کی، جبکہ نائب صدر فاروق احمد ناساز ہونے کے باعث آن لائن شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعد نئے میڈیا چیئرمین محمد کمال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں فیض کے استعفے کی اطلاع میڈیا سے ملی۔ دیگر دو ڈائریکٹرز نے پریس کانفرنس کے بعد استعفیٰ دیا۔ کمال نے کہاکہ "ہم نے بورڈ میں اس پر کوئی بحث نہیں کی۔ جنہوں نے استعفیٰ دیا، انہوں نے ذاتی وجوہات بتائی ہیں۔ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ فیض اجلاس میں ہمارے ساتھ موجود تھے۔ ہمیں اجلاس کے بعد ان کے استعفے کی خبر ملی۔”
فیض ڈھاکہ میٹروپولیس کرکٹ کمیٹی کے نائب صدر تھے۔ حال ہی میں انہوں نے بی سی بی کی لیگ کو صحیح طریقے سے نہ چلانے پر کھل کر سوال اٹھائے تھے۔ حکومت فی الحال گزشتہ سال اکتوبر میں ہوئے بی سی بی انتخابات کی تحقیقات کر رہی ہے، اور اس پر بنی کمیٹی اگلے ہفتے اپنی رپورٹ کھیل وزارت کو سونپ سکتی ہے۔
کھیل وزیر امین الحق نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ یہ جانچ کروانا چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش اس سال ہندوستان اور سری لنکا میں ہوئے ٹی-20 ورلڈ کپ میں کیوں حصہ نہیں لے سکا۔ گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ اجلاس میں انہوں نے بی سی بی میں سیاسی جانبداری کے الزامات کی بھی تحقیقات کرانے کی بات کہی۔