شمالی بھارت

دو سگی بہنوں نے مسلم نوجوانوں شادی کرکے اسلام قبول کرلیا، بالغ خواتین کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کا حق: الہ آباد ہائی کورٹ

یہ معاملہ دو سگی بہنوں سے متعلق حبسِ بے جا کی درخواست پر سامنے آیا، جن کے بارے میں الزام ہے کہ انہوں نے دو مسلم نوجوانوں سے محبت کے بعد اسلام قبول کیا اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔

الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے بالغ خواتین کے مذہب، شادی، رہائش اور مستقبل سے متعلق ذاتی فیصلوں کے حق پر اہم تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقررہ قانونی عمر کو پہنچنے والی بالغ خواتین کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے، اپنی پسند کے شخص سے شادی کرنے، اپنی رہائش کا انتخاب کرنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

یہ معاملہ دو سگی بہنوں سے متعلق حبسِ بے جا کی درخواست پر سامنے آیا، جن کے بارے میں الزام ہے کہ انہوں نے دو مسلم نوجوانوں سے محبت کے بعد اسلام قبول کیا اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔

درخواست میں بتایا گیا کہ دونوں بہنوں کے نام پہلے دِویا بھاٹیا اور انشو بھاٹیا تھے، جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے نام زویا دیا بھاٹیا اور امینہ انشو بھاٹیا رکھ لیے۔ دونوں مسلم نوجوانوں سے شادی کرنا چاہتی تھیں، تاہم ان کے والد نے مبینہ طور پر ان کے مذہب تبدیل کرنے اور اپنی پسند سے شادی کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی۔

درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت میں الزام عائد کیا گیا کہ دونوں نوجوان خواتین کو ان کے والد نے گھر میں مبینہ طور پر زبردستی روکے رکھا ہے۔ اسی بنیاد پر انہیں مبینہ غیر قانونی حراست سے آزاد کرانے کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

جسٹس سندیپ جین کی سربراہی میں عدالت نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے دونوں خواتین کو 6 اگست تک عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے مقامی پولیس کو بھی اس سلسلے میں ضروری کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ اگر درخواست میں لگائے گئے الزامات درست پائے گئے اور کسی بالغ خاتون کو اس کی مرضی کے خلاف حراست میں رکھا گیا تو یہ قانون کے تحت سنگین معاملہ ہوگا۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بالغ خواتین کو اپنی زندگی سے متعلق اہم فیصلے خود کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ ان میں مذہب کا انتخاب، رہائش کا فیصلہ، شادی کے لیے اپنی پسند کا شخص منتخب کرنا اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا شامل ہے۔

عدالت کے مطابق کسی بالغ شخص کو محض اس بنیاد پر اپنی مرضی کے خلاف محدود نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے خاندان کی مرضی کے برخلاف مذہب تبدیل کیا یا اپنی پسند سے شادی کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالت نے والد کو بھی مشورہ دیا کہ دونوں خواتین کو آزادانہ طور پر اپنے فیصلے کرنے کا موقع دیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنا اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتا ہے۔

اب اس معاملے میں اگلی اہم پیش رفت 6 اگست کو متوقع ہے، جب دونوں بہنوں کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد عدالت ان کے بیانات اور دیگر حقائق کی بنیاد پر مزید احکامات جاری کرسکتی ہے۔

یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ عدالت نے بالغ خواتین کی ذاتی آزادی، مذہبی انتخاب اور اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کے آئینی حق کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم حتمی طور پر اس معاملے میں عدالت کا اگلا حکم دونوں خواتین کے عدالت میں پیش ہونے اور ان کے بیانات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا۔