مشرق وسطیٰ

یو اے ای نے ایران کو 10 ارب ڈالر حوالے کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی: روئٹرز

روئٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے، جن میں سے 3 ارب ڈالر سے زائد پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا کہ مجموعی رقم 20 ارب ڈالر ہے اور یہ اقدام ایران کی جانب سے یو اے ای پر حملے روکنے کے بدلے میں کیا گیا ہے۔

دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے منجمد اربوں ڈالر حوالے کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جنگ بندی میں توسیع، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
خیبر پختونخوا میں منکی پاکس سے مزید افراد متاثر
جنگ بندی یا محض دکھاوا، غزہ، لبنان اور ایران میں حملے جاری
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام


روئٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے، جن میں سے 3 ارب ڈالر سے زائد پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا کہ مجموعی رقم 20 ارب ڈالر ہے اور یہ اقدام ایران کی جانب سے یو اے ای پر حملے روکنے کے بدلے میں کیا گیا ہے۔


ذرائع کے مطابق 3 ارب ڈالر کی پہلی قسط پہلے ہی دے دی گئی ہے۔ روئٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ منتقل کی جانے والی رقوم متحدہ عرب امارات کی اپنی ہیں یا یہ وہ ایرانی فنڈز ہیں جو طویل عرصے سے اماراتی بینکاری نظام یا دیگر مقامات پر منجمد تھے۔ ایران کے لیے اربوں ڈالر کی رقوم جاری کرنے پر اتفاق کرنے کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران ایران نے گزشتہ چند ہفتوں میں خلیجی عرب ریاست پر متعدد حملے کیے تھے۔


دوسری طرف تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری وسیع تر مذاکرات آخری مراحل میں نظر آ رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں امریکی پابندیوں کے باعث غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی تیل کی آمدنی کے دسیوں ارب ڈالر بھی جاری کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم، یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کی صبح ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان خبروں کی واضح طور پر تردید کی، جن میں 3 ارب ڈالر کی منتقلی کا دعویٰ بھی شامل تھا۔


بیان میں کہا گیا کہ یہ الزامات مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں، اور نہ تو کوئی منجمد ایرانی فنڈ جاری کیا گیا ہے، نہ منتقل کیا گیا ہے اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس عمل میں کوئی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

اس سے قبل جب روئٹرز نے فنڈز کی منتقلی سے متعلق تبصرہ طلب کیا تو ایک اماراتی عہدیدار نے کہا کہ ان کا ملک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ عہدے دار کے مطابق متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کشیدگی میں کمی، خطے میں استحکام اور پائیدار امن کے فروغ پر مبنی ہے۔