"صرف مقبرہ نہیں، عبادت گاہ بھی ہے: بیٹے نے ماں کی یاد میں تعمیر کردہ ‘تاج محل’ کو انسانیت کے نام کر دیا”
تامل ناڈو کے ایک بیٹے نے اپنی ماں کی محبت میں عقیدت کی ایسی مثال قائم کر دی ہے جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ چنئی کے تاجر امرالدین شیخ داؤد نے اپنی والدہ کی یاد میں 5.5 کروڑ روپے کی لاگت سے سفید سنگِ مرمر کا ایک شاندار مقبرہ تعمیر کیا ہے، جسے اب 'ممتا کا تاج محل' کہا جا رہا ہے۔
تیرووارور، تامل ناڈو: تاریخ گواہ ہے کہ مغل شہنشاہ شاہجہاں نے اپنی بیگم ممتاز محل کی یاد میں تاج محل تعمیر کروایا تھا لیکن تامل ناڈو کے ایک سعادت مند بیٹے نے اپنی ماں کے قدموں تلے جنت تلاش کرتے ہوئے زمین پر ہی ایک خوبصورت نظارہ پیش کر دیا۔ تامل ناڈو کے ضلع تیرووارور میں تعمیر شدہ سفید پتھروں کا یہ محل ان دنوں سوشل میڈیا پر مرکزِ نگاہ بنا ہوا ہے۔
چنئی کے رہنے والے تاجر امرالدین شیخ داؤد کے والد کا انتقال 1989 میں ہوا تھا، اس وقت ان کی والدہ جیلانی بی بی کی عمر محض 30 سال تھی اور ان کے پانچ چھوٹے بچے تھے۔ جیلانی بی بی نے دوسری شادی کرنے کے بجائے تن تنہا اپنے بچوں کی پرورش کی اور انہیں کبھی والد کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔

سال 2020 میں جب جیلانی بی بی کا انتقال ہوا، تو امرالدین ٹوٹ کر رہ گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ماں کو کسی عام قبرستان کے بجائے اپنی زمین پر دفن کریں گے اور وہاں ایک ایسی یادگار بنائیں گے جو رہتی دنیا تک مثال بن جائے۔
اس ‘ممتا کے محل’ کی تعمیر کے چند اہم حقائق :
رقبہ: یہ ڈھانچہ تقریباً ایک ایکڑ زمین پر 8,000 مربع فٹ میں پھیلا ہوا ہے۔
لاگت: اسے بنانے میں تقریباً 5.5 کروڑ روپے خرچ ہوئے (دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی رقم تھی جو ان کی والدہ اپنے پیچھے چھوڑ گئی تھیں)۔
وقت اور محنت: اس کی تعمیر میں 200 کاریگروں نے پورے 2 سال تک دن رات محنت کی۔
اس عمارت میں نہ صرف والدہ کا مقبرہ ہے، بلکہ نماز کے لیے جگہ اور بچوں کے لیے ایک مدرسہ بھی قائم کیا گیا ہے۔

جہاں بہت سے لوگ اس اقدام کی تعریف کر رہے ہیں، وہیں کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی رقم غریبوں میں تقسیم کی جا سکتی تھی۔ اس پر امرالدین کا موقف انتہائی واضح ہے: "میری ماں کی قربانیوں کے سامنے یہ رقم کچھ بھی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آج کی نسل دیکھے کہ والدین کتنے قیمتی ہوتے ہیں۔”
امرالدین نے اب یہ پوری عمارت ایک چیریٹیبل ٹرسٹ کے حوالے کر دی ہے، جہاں کسی بھی مذہب کا انسان آ سکتا ہے۔ جلد ہی یہاں ہر ایک کے لیے مفت کھانے (لنگر) کا انتظام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
امرالدین کا یہ قدم یہ پیغام دیتا ہے کہ محبت صرف کتابوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اسے حقیقت کا روپ بھی دیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف پتھروں کی ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک بیٹے کا اپنی ماں کی عظمت کو ایک لازوال ‘سلام’ ہے۔