طنز و مزاحمضامین

ضرورت رشتہ اور کوشش نا مراد

ڈاکٹر سید عباس متقی

ارسطو نے کہا تھا کہ مرد بوڑھا نہیں ہو تا او رہم کہتے ہیں کہ مرد جوان بھی نہیں ہو تا، ہمیشہ نو جوان رہتاہے۔ظاہر ہے کہ نوجوانی،نوجوانی کی متلاشی رہتی ہے،اور یوں ہر شریف نوجوان مشاطاؤں کی جی حضوری میں لگا رہتا ہے یا اگر پڑھا لکھا ہو تو اخبار کے اس تابناک صفحے کو چاٹتا رہتا ہے جو ”ضرورت رشتہ“کے تابناک تصورات سے پر رہتے ہیں۔
”ضرورت رشتہ“کے اشتہار کا پڑھنے والے کے خیالات سے ہم آہنگ ہو نا بھی تقدیر کی بات ہو تی ہے۔کئی اشتہارات کے تفصیلی و تشفی بخش مطالعہ کے بعد کوئی ایک اشتہار ہی نوشتہ دیوار و نوید بہار بنتانظر آتاہے۔ایک ایسے ہی اشتہار کی تحریر نے جو عمر رفتہ کو آواز دی تو ہم نے پہلے ساز دل سنبھالا اور غزل کہنے لگے۔ پہلے پہل حسب روایت موصوفہ سے خط و کتابت ہوئی، زاں بعدملاقات کا دن مقرر ہوا۔ہم ایک حسن پرست آدمی ہیں۔ عنوان جمال کے بعد دیگر عناوین ہمارے ہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔سنا کہ نادرہ صاحبہ نے اپنی جوانی میں کسی سے پیار کیاتھا اور اس خوش بخت نے انہیں ٹھکراکرکسی دولت مند لڑکی سے شادی کر لی (خوش بخت اس لیے کہ ٹھکرائی ہوئی منزل دوسرے متلاشی کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہو تی ہے) اس کے بعد انہوں نے خود دولت کمانا شروع کردیا۔عورت جب دولت کمانا شروع کردیتی ہے تو ہر طرف سے سونے کی بارش ہو نے لگتی ہے۔تاہم دولت تو ہاتھ آئی لیکن پیار سے ہاتھ دھوبیٹھیں۔اس غم سے وہ چڑچڑی ہو گئی تھیں۔عورتیں بہت جلد غم زدہ اور آزردہ ہو جاتی ہیں۔مستورات کی اس نا گفتہ بہ روش کا واحد علاج ان کی شادی ہے۔جب حیات کی خشک وادیوں میں تقدیر موجوں کے دہانے کھول دیتی ہے تو پھر ہر سمت بہاریں ہی بہاریں ہو تی ہیں اور زندگی کی خشک وادیاں رشک ارم ہو جاتی ہیں۔اس نکتے کو سوائے ”ہمارے“ کون سمجھ سکتاہے۔چنانچہ روز موعود جب ہم نے محترمہ نادرہ خانم کو دیکھا تو ایسا لگا کہ وہ نادرہ خانم نہیں بلکہ فلم ”آن“کی نادرہ ہیں۔اس ایک پیکر میں جے للیتا کا حسن اور للیتاپوار کی برہمی کار فرماتھی۔عمر چالیس کے یا ِاِدھر تھی یا اُدھر تھی۔خمار آلود آنکھیں، سنجیدہ نگاہیں، تیکھی چتون، کھنچے ہوئے ابرو، گلاب و گندم سے گوندھا ہوا رنگ، بے اعتنائی کا انداز، کھنکتی آواز، دل نوا.ز قوس وخم، جوانی میں چھوڑے گئے اور چھیڑے نہ گئے خود سر و خوابیدہ نقوش، نکلتا ہوا قد اور اس پر پھولوں کا پیرہن۔چہرے کے نقوش کہہ رہے تھے کہ کسی نے ہنوز ان نقوش سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی ہے۔ویسے بھی برہم طبائع کہاں پیش دستی کی اجازت دیتی ہیں۔ہوا ئیں بھی ان گلوں سے ہٹ کر گزرتی ہیں۔ایسا لگتاتھا کہ زندگی کی بے شمار بہاروں کو دیکھنے کے بعد اب وہ واقعی بہاروں کو دیکھنے کے موقف میں آگئی ہیں،کیوں کہ بہت سارے لوگ عمر تو گزار لیتے ہیں لیکن زندگی نہیں گزارتے۔شاید انہیں پتا چل گیاتھاکہ زندگی کا جوہر،جوہر حیات کو انگیز کرنے میں پوشیدہ ہے۔شریک حیات کے بغیر راہ ِ حیات ایک ایسا خشک دریاہوتی ہے کہ جس میں نہ الطاف کی موجیں اٹھتی ہیں نہ مسرتوں کے گرداب ہی پیدا ہو تے ہیں۔نادرہ خانم نے اشتہار میں لکھا تھا کہ انہیں ایک ایسا شوہر چاہیے جو روز و شب ان کے آگے پیچھے رہے۔یہ تو لکھا نہیں تھا کہ دم ہلاتا رہے لیکن جن اذہان نے دماغ کو محفوظ رکھا تھاوہ یہ جملہ بین السطور پڑھ سکتے تھے۔ہمیں بھی ایک حسن آرا خاتون مطلوب تھی چنانچہ ہم نے بھی پیش قدمی کر دی اوراپنے بایوڈاٹا پروہ تصویر چسپاں کی تھی جس پر ہم گھوڑے پر سوار تھے۔ساتھ ساتھ ڈر بھی رہے تھے کہ کہیں وہ ہمیں پسند کرنے کی بجائے ہمارے خوش رنگ گھوڑے کو نہ پسند کرلے،کیوں کے بعض ممالک میں آدمی سے زیادہ گھوڑوں کی قدر و منزلت پائی جاتی ہے۔انٹرویو کے دن ہم نے خود کو حتی المقدور سنوارا اور اپنے اجلے بالوں میں وہ مہنگا خضاب لگایاجوسفید کو سیاہ کرنے میں وکیلوں کو پیچھے چھوڑدیا کرتا ہے۔علیک سلیک کے ساتھ ہی ہم نے ایک ادائے ناز سے تیر تبسم دے مارا لیکن وار خالی گیا۔مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دینا شاید دولت مند خواتین ضروری خیال نہیں کرتیں۔رہ رہ کرہمیں امریکہ یاد آرہاتھاجہاں مسکراہٹ خواتین کا زیور ہے۔ہم نے جس خاتون کو دیکھ کر مسکرایا کیا مجال جو اس نے تبسم کا جواب تبسم سے نہ دیا ہوبلکہ ایک لطیف سا ”ہیلو“نہ کہاہو۔اس وقت ہمیں معلوم ہو ا کہ صحیح جگہ کاانتخاب صحیح عمر میں کرنا چاہیے۔ہندوستانی عورت اتنی شرمیلی ہو تی ہے کہ تبسم کو تکلم کی تمہید سمجھ لیتی ہے۔موصوفہ نے ہمارے بایوڈاٹا پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اوریوں گویاہوئیں کہ آپ اس عمر میں کیوں شادی کرنا چاہتے ہیں۔ہم نے کہا کہ ہماری شادی کی عمر ہو گئی ہے، اس لیے شادی کرنا چاہتے ہیں۔کہنے لگیں عمر توآپ کی بہت پہلے ہو چکی تھی۔ہم نے مسکراکر عرض کیاہاں لیکن آپ کا اشتہار کہاں شائع ہو ا تھا۔اس جواب پر پہلی دفعہ موصوفہ کے لبوں پرتبسم کی ایک ہلکی سی لکیر نمودار ہوئی۔موصوفہ کافی تیز و طرار واقع ہوئی تھیں،اچانک کہنے لگیں کہ اب آ پ کے منھ میں کتنے دانت باقی رہ گئے ہیں۔اس سوال پر ہم حیران رہ گئے،سیدھے سیدھے یہ ہماری اہانت تھی،لیکن چونکہ ہمارا سابقہ ایک حسین لیکن چڑخ خاتون سے پڑا تھا، اس لیے صبر کے گھونٹ حلق سے اتار کرہم نے یوں منھ کھولا کہ محترمہ چند سال پیشتر ہی دوایک اقل داڑھوں نے سر ابھارا تھا اورکچھ عرصہ ہوا ہم نے ان ڈاڑھوں کو اپنے دہن خوش گل سے بیک بینی و دوگوش باہر نکال دیااور اب اپنے ما بقی تیس دانتوں کے ساتھ کسی گل دہن کی آرزو میں سانس لے رہے ہیں۔کہنے لگیں جناب میں پوچھ سکتی ہوں کہ آپ کی آنکھوں کاکیاحال ہے۔ہم نے کہا کیوں نہیں ہماری دور کی نگاہ تیز ہے اورقریب کی نگاہ کچھ کم تیز نہیں،کتابیں پڑھتے وقت ایک معمولی نمبر کی عینک لگاتے ہیں یا پھر……کہنے لگیں یا پھر سے آپ کی کیا مراد ہے۔ہم نے عرض کیایا کتابی چہرے پڑھتے وقت عینک کی ضرورت پڑتی ہے،اور اوروقتوں میں عینک کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔ کہنے لگیں بالوں میں آپ خضاب لگا تے ہیں؟ہم نے کہا محترمہ اس دور میں نو جوانوں کے بال پک رہے ہیں اور ہم توجوانی کی منزل پار کرچکے ہیں۔اس لیے ضرور تاً تھوڑا بہت خضاب لگا لیاکرتے ہیں کہ اللہ جمیل و یحب الجمال۔ پوچھا گھٹنوں کاکیاحال ہے۔شاید وہ ہمیں چھیڑنے پر تل سی گئی تھیں۔ہم نے ترکی بہ ترکی جواب دیاکہ ابھی چلنے اور چڑھنے کے موقف میں ہیں۔جوانی میں بکریوں کا دودھ پیاہے، اس لیے آج بھی صاحب وقار بوکڑوں کی طرح کہیں بھی چڑھنے کاحوصلہ رکھتے ہیں۔پوچھا کہیں سے بھی سے آپ کی کیا مراد ہے۔ہم نے کہاچھت،دیوار،منڈیر جہاں موقع ملتاہے چڑھ جاتے ہیں۔خدانخواستہ آپ کو کوئی بیماری تو نہیں جیسے شگر،بلڈپریشر، تھائیروڈوغیرہ۔ہم نے کہا حضور کوئی اور قابل ذکر بیماری تو نہیں البتہ مرض عشق نے ہمیں بچپن سے پریشان کررکھا ہے۔اسی علاج کے لیے تو ملکہ عالیہ کے حضور آن پہنچے ہیں۔خدا را اس غریب کو دائرہ مناکحت میں لے کر سرخروفرمائیں تو بندہ تادم حیات دعا گو رہے گا۔کہنے لگیں صرف دعا گو!ہم نے عرض کیا دعا توہر کام کی تمہید ہواکر تی ہے۔اچانک پوچھ بیٹھیں کہ آپ کو کیسے معلوم ہواکہ آپ ابھی شادی کے لائق ہیں۔اس تفنگ زہرآلود کو بھی ہم نے اپنی اعلی ظرفی و تحمل مزاجی سے سہہ لیا۔ ہم نے کہا قبلہ!منھ نہ کھلوائیے۔ما بدولت نے کہیں اور تو نہیں البتہ اسی دشت کی سیاحی میں عمر عزیر گزاری ہے، گھوڑے بدلے ہیں پالان نہیں بدلے۔سموں سے چنگاریاں پیدا کی ہیں۔گھوڑوں کے منھ کف سے بھر گئے لیکن لگام کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔صاحب نقاب اشخاص نے شکست فاش تسلیم کی لیکن کیا مجال جو رکاب سے پاوں ادھریا اُدھر ہوا ہو۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیاہے،فقیر کی لیاقت عظمی ٰ کو بہ چشم سر ملاحظہ فرماسکتی ہیں۔کہنے لگیں،میں نے اپنے کتوں کے ساتھ اپنی زندگی کے شب و روز گزا رے ہیں۔چاہتی ہوں کہ میراشوہر بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہو۔ہم نے کہا محترمہ عالیہ آپ کے کتوں میں وہ صفات عالیہ کہاں جو اس مرد مجاہد میں ہے۔آپ کے کتے وفا دار ہیں لیکن بھونکتے ہیں،ما بدولت وفادار ہے اور کبھی بھونکتانہیں۔کتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے آپ نے ان کے گلوں میں پٹے پہنا رکھے ہیں۔فقیر بغیر پٹا پہنے ملکہ عالیہ کے قابو میں ہے۔کتے بہت جلد باز ہوتے ہیں آپ کے منھ لگائے بغیر ہی آ پ کے منھ لگ جاتے ہیں۔لیکن جب تک آپ کاحکم ارشاد کی صورت میں حلقوم ناز سے باہر نہ نکلے غریب کی یہ مجال نہ ہوگی کہ آپ کو منھ لگائے۔کتے آپ کے آواز کے محتاج ہو تے ہیں اور یہ فقیر آپ کے اشارے کا محتاج ہے۔ایسا معلوم ہو رہاتھاکہ جیسے جیسے ہم اپنے عجز و انکسار سے زمین بوس ہو رہے تھے، ویسے ویسے وہ فلک آثار ہورہی تھیں۔اب آپ کوکیا معلوم کہ یہ لطیف تمہیدات محض ایجاب و قبول تک محدود تھیں۔شہ سوار اگر گھوڑے کی گردن تھپ تھپاتا ہے اور پچکارتا ہے تو اس کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ وہ گھوڑے کا غلام ہے بلکہ اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ میدان مارنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔پوچھاکہیں آپ منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی نیا ڈبونے کے عادی تو نہیں۔ہم نے کہاحضور یہ نوجوانوں کی صفات عالیہ کو مجھ فقیر میں کیوں ڈھونڈنے لگیں۔بندہ تو منزل پر پہنچ کر بھی بندہ نواز کے اشارے کا محتاج رہے گا۔یا غریب کو ساحل مراد تک پہنچائیں یا نذر تلاطم فرمائیں۔لمس و کنار کا آپ کو اختیار حاصل ہے۔بخدا ہم چمن زار میں پھولوں کو چننے میں اتنی دیر لگاتے ہیں کہ کئی دفعہ بہار آتی ہے اور گزر جاتی ہے۔اب آپ خود ملاحظہ فرمائیں کہ آپ کے کتے زیادہ شائستہ اخلاق ہیں یا یہ فقیر نا شائستہ۔ہماری اس حطمی گفتگو کے بعد وہ سوچ میں پڑگئیں کہ عنفوان شباب میں وہ اس مرد لائق سے کیوں نہ مل پائیں ورنہ وہ اب تک کنواری نہ رہتیں۔اور انسان نما کتوں کی ایک خاص نسل تیار ہو جاتی۔کہنے لگیں آپ کی نظر میری دولت پر تو نہیں۔ہم نے کہا عزیزہ ام،عزیزہ ام۔ان بعض الظن اسم۔اگر آپ اپنی کروڑوں کی جائداد کو چھوڑ کر ایک پیرہن سے بھی فقیر کی کٹیا میں تشریف لائیں تو مجھے منظور ہے بلکہ پیرہن بھی میں نے کچھ زیادہ ہی کہہ دیاہے۔خاتون بہت سمجھ دار واقع ہوئی تھیں،ہمارے جملے کی معنویت و تہہ تک جا پہنچی اورپہلی بارکھل کھلا کر ہنس دیا۔پوچھا شادی میں آپ کی طرف سے کتنے لوگ آئیں گے۔ہم نے کہا ہم،اورصرف ہم اور کوئی نہیں۔لوگوں میں اب اتنا حوصلہ کہاں کہ دوسروں کے حوصلے پر خوشی کا اظہار کریں۔کہنے لگیں شادی کے بعد آپ مجھے کہاں رکھیں گے۔ہم نے عرض کیااور کہا آپ کے گھر میں!۔آپ کی رہائش کے لیے آپ کے گھر سے بھی زیادہ کوئی بہتر جگہ ہو سکتی ہے۔ عرفی نے جو کشمیر کے لیے کہا تھا ہم نادرہ مزل کے لیے وہی کہتے ہیں۔پوچھا کیاکہیں گے؟ہم نے خالص اصفہانی لہجے میں عرض کیا
”اگر فردوس بر روئے زمین است ٭ ہمین است و ہمین است و ہمین است“
اچا نک محترمہ نے سوال دے مارا کہ آپ کرتے کیاہیں۔ہم نے کہا محترمہ کرنے کے زمانے میں تو ہم نے بہت کچھ کیاہے لیکن اب تھک ہار کر کام کا نعم البدل شاعری کر تے ہیں۔شاعری ہر اس کا م کانعم البدل ہے جو آدمی کرنا چاہا ہو اور کرنہ پایا ہو۔کہنے لگیں تو آپ شاعر ہیں۔ہم نے فی الفور مولانا روم کا یہ شعر پڑھ دیا کہ
شعر می گویم بہ از قند و نبات ٭ من نہ دانم فاعلاتن فاعلات
مسکراکر کہا کہ کوئی شعر سنائیے۔عین اسی وقت جو کھڑکی سے ہوا کا ایک جھونکا آیا معاً موصوفہ کی زلفیں بکھر گئیں اور ان کا ریشمی آنچل اپنے مراکز سر بستہ سے سرک کر زمین بوس ہوا چاہتا تھا کہ محترمہ نے اسے سنبھال لیا۔شباب خود سر سے جو آنکھیں بہرہ مند ہوئیں معاً ہمیں ساحر لدھیانوی کا یہ شعر یا د آگیا جسے ہم نے گنگنا کر حضو ر جمال پڑھ دیا ”تو میرے سامنے ہے،تیری زلفیں ہیں کھلی،تیرا آنچل ہے ڈھلا،میں بھلا ہوش میں کیسے رہوں،کیسے رہوں“۔ شاید ہماری گنگناہٹ نے انہیں محو خواب کردیاتھاجب کافی دیر تک خاموشی رہی تو ہم نے چونکایا کہ حضور کہیں سو تو نہیں گئیں۔بند آنکھیں لیے خوابیدہ لہجے میں کہنے لگیں میں سو نہیں کھو گئی تھی۔اور پھر خمار آلود نگاہوں کے ساتھ کہنے لگیں کہ عباس صاحب!میں کچھ دنوں بعد آپ سے کنٹاکٹ کروں گی،آپ انتظار کیجیے۔ہائے غضب!آج تک ہم کنٹاکٹ کا انتظار کررہے ہیں۔

a3w
a3w