دہلی

کینیڈا کے سفارت کاروں کی کمی سے ویزا کارروائی میں تاخیر

دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تنازعہ کے بیچ کینیڈا کی جانب سے اس کے 41 سفارت کاروں کی واپس طلبی کے بعد پنجاب کے ویزا کنسلٹنٹ اور ایجنٹس اندیشہ ظاہر کررہے ہیں کہ اُس ملک (کینیڈا) کے لیے ویزا درخواستوں کی کارروائی میں تاخیر ہوگی۔

چندی گڑھ: ایک سیکھ علیحدگی پسند کے قتل کے بعد دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تنازعہ کے بیچ کینیڈا کی جانب سے اس کے 41 سفارت کاروں کی واپس طلبی کے بعد پنجاب کے ویزا کنسلٹنٹ اور ایجنٹس اندیشہ ظاہر کررہے ہیں کہ اُس ملک (کینیڈا) کے لیے ویزا درخواستوں کی کارروائی میں تاخیر ہوگی۔

انھوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ پنجاب سے اس ملک کو جانے والے خواہشمند طلباء کو ویزا کارروائی میں تاخیر کا نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ پنجاب کے طلباء کینیڈا کی مختلف یونیورسٹیوں میں حصولِ تعلیم کے لیے بہت زیادہ خواہشمند ہوتے ہیں۔ کنیڈیائی وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے ماہ جون میں خالصتانی علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کو ہندوستانی ایجنٹوں سے جوڑنے کے الزام سے پیدا شدہ سفارتی تنازعہ کے بعد ہندوستان نے 41 سفارت کاروں کو ملک سے واپس طلب کرنے کینیڈا سے کہا تھا۔

ہندوستان نے مذکورہ الزامات کو سختی کے ساتھ مسترد کیا تھا۔ سفارت کاروں کی واپسی کے بعد کینیڈا نے اسے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ظاہر کی، تاہم ہندوستان نے اسے مسترد کرتے پرزور الفاظ میں کہا کہ دو طرفہ سفارت کاری میں یکسانیت سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کے مطابق ہیں۔

کینیڈا کے وزیر خارجہ میلانی نے سفارت کاروں کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے نئی دہلی کی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ ویانا کنونشن کی خلاف ورزی بھی ہے۔ کینیڈا کی جانب سے چندی گڑھ، ممبئی اور بنگلورو کے قونصل خانوں میں شخصی طور پر کی جانے والی کارروائیوں میں تاخیر پیش آنے کے سبب اس نے اپنے تمام شہریوں کو جو ہندوستان میں ہیں، نئی دہلی میں واقع ہائی کمیشن آفس سے رجوع ہونے کی ہدایت دی ہے۔

ہندوستان میں اپنے عملہ کو کم کرنے کینیڈا کے اقدام کے بعد کئی طلباء جو کینیڈا کی یونیورسٹیوں میں داخلہ کی تیاری کررہے ہیں، کے والدین کو پریشانی کا سامنا ہے۔ کپور تھلہ میں واقع ایک کنسلٹنٹ دلجیت سنگھ سندھو نے کہا کہ ویزا کی درخواستوں پر کارروائی میں تاخیر پیش آئے گی اور کہا کہ اس کارروائی میں تقریباً 3 ماہ کی تاخیر ہوسکتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ عام طور پر ویزا کی درخواستوں کی کارروائی ایک ماہ میں مکمل ہوتی تھی۔ سندھو نے کہا کہ انہیں پریشان والدین کی جانب سے کئی فون کالس موصول ہورہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ طلباء متبادل ذرائع اختیار کرتے ہوئے ممکن ہے برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیں گے۔

سوشل میڈیا پر کئی پیامات کے بعد والدین اپنے بچوں کو کینیڈا بھیجنے کے بارے میں اندیشہ ظاہر کررہے ہیں، کیوں کہ وہاں ملازمتوں کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔

موگا کی رہائشی طالبہ جیہ جس نے کینیڈا کے مقام سرے میں واقع ایک خانگی کالج میں نام شریک کرایا ہے نے کہا کہ کسی نہ کسی طرح ہر ایک کو ویزا حاصل ہوگا اور ہندوستان اور کینیڈا کے مابین حالات تبدیل ہوں گے۔ اس نے بتایا کہ اس کی تعلیم کا آغاز جنوری میں ہونے والا ہے، اس لیے امید ہے کہ جب تک اسے ویزا جاری ہوجائے گا۔

a3w
a3w