شمالی بھارت

ہندو خواتین کو رجھانے کی سازش رچنے کا الزام، لو جہاد کے واقعات پر کارروائی کرنے کی ہدایت

چیف منسٹر اترکھنڈ پشکر سنگھ دھامی نے ایک نابالغ ہندو لڑکی کے مبینہ اغوا اور بین مذہبی جوڑوں کے فرار سے متعلق معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک سازش قرار دیا اور پولیس عہدیداروں سے کہا کہ وہ لو جہاد کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

دہرہ دون: چیف منسٹر اترکھنڈ پشکر سنگھ دھامی نے ایک نابالغ ہندو لڑکی کے مبینہ اغوا اور بین مذہبی جوڑوں کے فرار سے متعلق معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک سازش قرار دیا اور پولیس عہدیداروں سے کہا کہ وہ لو جہاد کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

متعلقہ خبریں
پاکستانی صوبہ سندھ میں ہندو عورت کی ہلاکت
لوجہاد کے الزام میں ایک گرفتار
اتراکھنڈ میں بہت جلد یکساں سیول کوڈ لاگوہوگا: چیف منسٹر
لو جہاد قانون پر فوری اسٹے دینے سے سپریم کورٹ کا انکار

انھوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے لوگ اترکھنڈ میں پُرامن طور پر ساتھ رہتے ہیں، لیکن لو جہاد جیسی چیزوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دھامی نے کہا کہ سازش کے حصہ کے طور پر ایسے جرائم کا ارتکاب کیا جارہا ہے، لیکن اب لوگ کھل کر اس کے خلاف سامنے آرہے ہیں۔

دائیں بازو کی تنظیمیں مسلم مردوں کی جانب سے ہندو خواتین کو رجھانے اور ان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے یا شادیوں کو لو جہاد قرار دیتی ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ انھوں نے یہاں سینئر پولیس عہدیداروں کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی، تاکہ لو جہاد سے متعلق واقعات کے سلسلہ میں ان کی رائے حاصل کی جاسکے۔

ریاست میں حالیہ عرصہ میں ایسے واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ وہ بظاہر حالیہ عرصہ میں اترکاشی، چمولی اور ہریدوار اضلاع میں پیش آئے واقعات کا حوالہ دے رہے تھے، جن میں مسلم لڑکوں نے نابالغ لڑکیوں سے دوستی کرنے اپنی شناخت چھپائی تھی۔

ان واقعات کے نتیجہ میں مسلم تاجرین کے خلاف احتجاج کیا گیا اور انھیں اترکاشی چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ دھامی نے کہا کہ لوگ اب ایسے جرائم کے خلاف کھل کر سامنے آرہے ہیں جس سے ان کی شعوربیداری کا اظہار ہوتا ہے۔ دھامی نے کہا کہ لو جہاد کے بارے میں شعور بیداری میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو تین ماہ کے دوران ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

a3w
a3w