بین الاقوامی

ملایشیا میں موجودکسی بھی اسرائیلی کو فوراً ملک بدر کر دیا جائے گا:انور ابراہیم

ملایشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک میں موجود کسی بھی اسرائیلی شہری کو فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے گا۔ ملک کے جنوبی صوبہ جوہورمیں ایک نجی کامپلکس کی سرگرمیوں میں ایک اسرائیلی شہری کی موجودگی کے دعووں کے بعد وزیر اعظم انور ابراہیم نے آج جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ متعلقہ ادارے ان الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو حکومت کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔

والالمپور: ملایشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک میں موجود کسی بھی اسرائیلی شہری کو فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے گا۔ ملک کے جنوبی صوبہ جوہورمیں ایک نجی کامپلکس کی سرگرمیوں میں ایک اسرائیلی شہری کی موجودگی کے دعووں کے بعد وزیر اعظم انور ابراہیم نے آج جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ متعلقہ ادارے ان الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو حکومت کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہمیں کوئی اسرائیلی شہری ملتا ہے تو ہم اسے فوری طور پر ملک بدر کر دیں گے کیونکہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ ملایشیا‘اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتااس لیے اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کا خصوصی حکومتی اجازت کے بغیر ملایشیا میں داخلہ ممنوع ہے۔

ملایشیاکی وزارتِ داخلہ نے جوہور کی ریاستی حکومت کی طرف سے جوہور میں قائم کاروباری برادری نیٹ ورک اسکول سے متعلق الزامات پر وفاقی تحقیقات کا مطالبہ کئے جانے کے بعد معاملہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

دوسری جانب ملک کے محکمہئ امیگریشن نے کہا ہے کہ فاریسٹ سٹی میں ایک بین الاقوامی کمیونٹی کے حوالہ سے کیے گئے معائنہ کے دوران تمام 266 غیر ملکی شہریوں کے پاس درست امیگریشن دستاویزات موجود تھیں۔

واضح رہے کہ فاریسٹ سٹی جوہور میں سنگاپور کی سرحد کے قریب مصنوعی جزیروں پر تعمیر کیا گیا ایک بڑا رہائشی و تجارتی منصوبہ ہے۔ اسے ایک بین الاقوامی رہائشی مرکز کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور یہ غیر ملکیوں کے لیے نہایت پُر کشش بن چکا ہے۔ اس منصوبہ کو وقتاً فوقتاً امیگریشن اور ضابطہ کاری سے متعلق مسائل کے باعث جانچ پڑتال کا سامنا رہا ہے۔