ایران کی پھر بحری ناکہ بندی‘ امریکی فضائی حملے تیز۔ آئندہ ہفتہ پلوں اور برقی پلانٹس کو نشانہ بنانے ٹرمپ کی دھمکی
امریکہ نے ایران کی پھر سے بحری ناکہ بندی کردی ہے۔ اس نے چہارشنبہ کے دن اپنی فضائی حملوں کی مہم تیز کردی۔ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر تہران کے حملوں کے جواب میں یہ اقدام کیا ہے۔
دُبئی (اے پی) امریکہ نے ایران کی پھر سے بحری ناکہ بندی کردی ہے۔ اس نے چہارشنبہ کے دن اپنی فضائی حملوں کی مہم تیز کردی۔ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر تہران کے حملوں کے جواب میں یہ اقدام کیا ہے۔
ایرانی فوجی بیرکس امریکی حملوں کی زد میں آئیں۔ کم ازکم 7 فوجی ہلاک اور ملک بھر میں 260 افراد زخمی ہوئے۔ ایرانی عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ مشرق ِ وسطی میں امریکہ اور ایران کے پے درپے حملوں نے عالمی توانائی سپلائی کے لئے اہم بحری گزرگاہ کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ جنگ کے خاتمہ کے لئے جو عبوری معاملت ہوئی تھی اس کی دھجیاں اڑگئی ہیں۔ خطہ میں مکمل جنگ چھڑسکتی ہے۔
کل رات امریکہ نے کئی حملے کئے۔اس نے 7 گھنٹوں کی کارروائی میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس نے دن میں بھی ایران پر حملے کئے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکیوں نے کم ازکم 13 مزائل فائر کئے۔ کئی فوجی زخمی ہوئے اور حالیہ دنوں میں 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکومت ایران کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کسی تفصیل کے بغیر یہ بات بتائی۔
وزارت ِ صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے بتایا کہ کل رات کے حملوں میں 260 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کل رات کتنی ہلاکتیں ہوئیں۔ ایرانی فوج نے کہا کہ وہ امریکی دشمن کی جارحانہ حرکت کا منہ توڑ جواب دے گی۔ چہارشنبہ کے دن بحرین اور کویت میں مزائل الرٹ سائرن بجنے لگنے کیونکہ ایران کی طرف سے فائر آرہی تھی۔
اردن نے کہا کہ اس نے 3 ایرانی مزائلوں کو مارگرایا۔ ٹرمپ نے منگل کی رات فاکس نیوز چیانل سے کہا تھا کہ آئندہ 2 دن میں ایران پر مزید امریکی حملے ہوں گے۔ ایران نے مذاکرات بحال نہ کئے تو آئندہ ہفتہ پلوں اور برقی پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ بہتر ہے کہ ایران معاملت کرلے ورنہ وہ کہیں کا نہیں رہے گا۔ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیر سعید اروانی نے امریکی حملوں پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ جارح ہے‘ مظلوم نہیں۔ جنگ کا نیا دور آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے جہاں سے زمانہ ئ امن میں دنیا کی 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت ہوتی تھی۔ چہارشنبہ کے دن برینٹ کروڈ کے دام 85 امریکی ڈالر فی بیارل سے زائد رہے۔