دہلی

ایس آئی آر‘ زیادہ سے زیادہ نام کاٹنے کیلئے ہے: سابق چیف الیکشن کمشنر

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے جاریہ ایس آئی آر مشق پر الیکشن کمیشن کو نشانہ ئ تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل لوگوں کے نام شامل کرنے سے زیادہ کاٹنے پر مرکوز ہے۔ اس نے جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے جاریہ ایس آئی آر مشق پر الیکشن کمیشن کو نشانہ ئ تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل لوگوں کے نام شامل کرنے سے زیادہ کاٹنے پر مرکوز ہے۔ اس نے جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔

آزادانہ و منصفانہ انتخابات میں خلل پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ ایس آئی آر میں زور اس بات پر ہے کہ زیادہ سے زیادہ کتنے نام کاٹے جائیں کیونکہ اس سے الیکشن کمیشن کو اچھے نشانات ملیں گے۔ ایس وائی قریشی اپنی نئی کتاب ”انڈیا اینڈ آئی: اے ہنڈریڈ میموریز ناٹ اے میمائر“ کی رسم اجراء سے قبل پی ٹی آئی ویڈیوز کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر کی حیثیت سے اندراج دستوری حق ہے لیکن ایسی صورتِ حال پیدا کردی گئی کہ وہ عوام پر الیکشن کمیشن کی مہربانی ہے۔

ایس آئی آر کا جاریہ عمل جس طرح کیا جارہا ہے وہ غیرمنصفانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ توجہ نام کاٹنے پر ہے۔ایسا لگتا ہے کہ جتنے نام کاٹ سکتے ہو کاٹو پر توجہ دی جارہی ہے۔ ہمارے دور میں پالیسی بڑی واضح تھی۔ پولنگ عملہ کو اس وقت ہماری ہدایت ہوتی تھی کہ اسپیلنگ‘ عمر یا پتہ میں معمولی غلطی ہو تو اسے نظرانداز کردو۔ صرف یہ دیکھو کہ آدمی صحیح ہے یا نہیں۔ کسی بھی رائے دہندہ کا نام شامل ہونے سے نہ رہ جائے۔ ایس وائی قریشی نے کہا کہ اب توجہ زیادہ سے زیادہ نام کاٹنے پر دکھائی دیتی ہے جس کے لئے انہیں اچھے نشانات ملیں گے۔

نتیجہ میں کروڑہا نام فہرست سے باہر ہوگئے۔ ملک و قوم کو اس کی فکر کرنی چاہئے اور آج تنازعہ اسی لئے ہے۔ 30 جولائی 2010 تا 10 جون 2012 چیف الیکشن کمشنر رہے ایس وائی قریشی نے کہا کہ ہم بے وقوف نہیں تھے۔ ہم بھی اپنے دستوری خط ِ اعتماد کے مطابق فہرست رائے دہندگان کی صفائی کرتے رہے اور ہر سال کرتے رہے۔ بہار میں 2002-03 میں پچھلے ایس آئی آر کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اب ایس آئی آر ضروری نہیں کیونکہ انتخابی فہرستیں کمپیوٹرائز ڈ ہوچکی ہیں۔

ملک جاننا چاہتا ہے کہ آپ نے کتنے غیرملکیوں کا پتہ چلایا۔ میڈیا سے ہم نے سنا کہ 500 غیرملکی پائے گئے جن میں 150 بنگلہ دیشی تھے اور 350 نیپالی ہندو عورتیں تھیں جو بیاہ کر بہار آئی تھیں۔ اب 150 بنگلہ دیشیوں کو پتہ چلانے آپ نے 8 کروڑ کی جنتا کو دوڑادیا اور اس عمل میں لاکھوں ووٹرس کے نام کاٹ دیئے۔ کونسا مقصد پورا ہوا؟ کیا یہ منصفانہ تھا؟ بالکل بھی نہیں۔