تلنگانہ

تلنگانہ میں ایپ بیسڈ ٹیکسی، آٹو اور ڈلیوری سروسز کی ریاست گیر ہڑتال کا اعلان

ٹریڈ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گیگ ورکرز کی یہ تحریک صرف اجرت کا مسئلہ نہیں بلکہ محنت کشوں کے حقوق، عزتِ نفس اور سماجی تحفظ کی وسیع جدوجہد کا حصہ ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ بھر میں آج، 22 جولائی کو ایپ پر مبنی ٹیکسی ڈرائیور، آٹو ڈرائیور، ڈلیوری ایگزیکٹو اور مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیور اپنی مختلف مطالبات کے حق میں ریاست گیر علامتی ہڑتال کر رہے ہیں۔ اس ہڑتال کے باعث ریاست کے کئی شہروں میں ٹیکسی، آٹو اور آن لائن فوڈ و گروسری ڈلیوری خدمات متاثر ہونے کا امکان ہے۔

یہ فیصلہ مشیر آباد میں واقع سی آئی ٹی یو (CITU) کے سٹی آفس میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جہاں مختلف ٹریڈ یونینوں نے ہڑتال کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

ہڑتال میں اولا (Ola)، اوبر (Uber)، ریپیڈو (Rapido)، سوگی (Swiggy)، زومیٹو (Zomato)، زیپٹو (Zepto)، بلنکٹ (Blinkit)، پورٹر (Porter) اور دیگر ایپ بیسڈ پلیٹ فارمز سے وابستہ ہزاروں ڈرائیور اور ڈلیوری ورکرز کے شریک ہونے کی توقع ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تلنگانہ حکومت اور ایگریگیٹر کمپنیاں ایپ بیسڈ ٹرانسپورٹ خدمات کے لیے کم از کم بنیادی کرایہ مقرر کریں، جبکہ فی کلومیٹر اور فی منٹ کرایہ بھی منصفانہ بنیادوں پر طے کیا جائے تاکہ ڈرائیوروں اور ڈلیوری ورکرز کو مناسب آمدنی حاصل ہو سکے۔

کارکنوں نے گیگ اینڈ پلیٹ فارم ورکرز رولز کو فوری طور پر نافذ کرنے، ویلفیئر بورڈ کے قیام اور موٹر وہیکل ایگریگیٹر گائیڈ لائنز 2025 پر عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا ہے، تاکہ کرایوں اور کمیشن کا نظام واضح حکومتی ضوابط کے تحت چلایا جا سکے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ گیگ اینڈ پلیٹ فارم ورکرز یونین (TGPWU) کے بانی صدر شیخ صلاح الدین نے عوام کو ممکنہ پریشانی پر معذرت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا، کیونکہ ان کے دیرینہ مطالبات مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہماری جدوجہد منصفانہ کرایوں، باعزت روزگار اور تمام گیگ و پلیٹ فارم ورکرز کے لیے انصاف کی جدوجہد ہے۔”

ٹریڈ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گیگ ورکرز کی یہ تحریک صرف اجرت کا مسئلہ نہیں بلکہ محنت کشوں کے حقوق، عزتِ نفس اور سماجی تحفظ کی وسیع جدوجہد کا حصہ ہے۔

یونینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر 8 اگست تک حکومت یا ایگریگیٹر کمپنیاں ان کے مطالبات پر مثبت پیش رفت نہیں کرتیں تو غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کر دی جائے گی، جس سے تلنگانہ میں عوامی ٹرانسپورٹ، آن لائن ٹیکسی سروسز، فوڈ ڈلیوری اور گروسری ڈلیوری خدمات بڑے پیمانے پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔