حیدرآباد

فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال پر اسد الدین اویسی کا سخت ردعمل، حیدرآباد میں بڑے احتجاج کا انتباہ

اویسی نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ پریوار سے وابستہ افراد فارم 7 کے ذریعے ووٹر لسٹوں سے نام حذف کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے تلنگانہ میں جاری ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی ایس آئی آر کے دوران فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اویسی نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ پریوار سے وابستہ افراد فارم 7 کے ذریعے ووٹر لسٹوں سے نام حذف کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم یہ الزامات سیاسی جماعتوں کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اور ان کی مکمل تصدیق انتخابی حکام کی جانچ کے بعد ہی ہوسکے گی۔

اسد الدین اویسی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا، تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر اور ڈسٹرکٹ الیکٹورل افسران سے مطالبہ کیا کہ ووٹر کا نام حذف کرنے کے لیے داخل کیے جانے والے ہر فارم 7 کی مکمل جانچ کی جائے اور یہ بھی تصدیق کی جائے کہ فارم داخل کرنے والا شخص کون ہے اور اس نے درخواست کس بنیاد پر دی ہے۔

حیدرآباد میں پیش آنے والے بعض واقعات نے اس معاملے کو مزید سیاسی اہمیت دے دی ہے۔ مشیرآباد اسمبلی حلقہ میں کانگریس نے الزام لگایا کہ بوتھ نمبر 210 پر کانگریس بوتھ لیول ایجنٹ شفیع الدین اور ان کے خاندان کے تقریباً 30 افراد کے نام حذف کرنے کے لیے پہلے سے پرنٹ کیے گئے فارم 7 جمع کرائے گئے۔ کانگریس نے اس معاملے میں تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سی سدھارشن ریڈی سے شکایت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی طرح بہادرپورہ اور گوشامحل اسمبلی حلقوں میں بھی پہلے سے تیار یا پرنٹ کیے گئے فارم 7 کے معاملات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ گوشامحل میں ایک بوتھ لیول افسر نے مبینہ طور پر ایسے متعدد فارم قبول نہیں کیے، جبکہ بہادرپورہ میں سامنے آنے والے ایک فارم میں ووٹر کا نام اور پتہ پہلے سے درج تھا، لیکن درخواست گزار کی تفصیلات موجود نہیں تھیں۔ ان معاملات کی انتخابی حکام کی جانب سے جانچ کی جارہی ہے۔

اسد الدین اویسی نے خاص طور پر پہلے سے پرنٹ کیے گئے اور مبینہ طور پر درخواست گزار کی تفصیلات کے بغیر تیار فارم 7 پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق اگر کسی فارم میں صرف اس شخص کا نام اور تفصیلات موجود ہوں جس کا ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانا ہے، جبکہ فارم داخل کرنے والے شخص کا نام اور دیگر ضروری معلومات موجود نہ ہوں تو یہ سنگین معاملہ ہے اور الیکشن کمیشن کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

اویسی نے کہا کہ اگر جھوٹے فارم 7 داخل کیے جارہے ہیں تو الیکشن کمیشن کو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ فوری طور پر نہیں رکا تو حیدرآباد کی سڑکوں اور گلیوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے مظاہروں سے بھی بڑا ہوسکتا ہے اور مجلس اتحاد المسلمین اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گی۔

فارم 7 کے ذریعے کسی ووٹر کے نام کو انتخابی فہرست سے حذف کرنے یا کسی نام کے اندراج پر اعتراض کرنے کی درخواست دی جاسکتی ہے۔ تاہم فارم 7 داخل ہوجانے سے کسی ووٹر کا نام خود بخود حذف نہیں ہوجاتا۔ متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر درخواست کی جانچ اور متعلقہ دعوے کی تصدیق کے بعد ہی فیصلہ کرتا ہے۔

تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر کے دوران اب تک تقریباً 29 ہزار فارم 7 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر سی سدھارشن ریڈی کے مطابق 28,753 فارم 7 درخواستیں داخل کی گئی تھیں، جن میں تقریباً 5 ہزار درخواستیں حیدرآباد سے تھیں۔ تاہم ان میں سے کتنے فارم پہلے سے پرنٹ کیے گئے تھے یا ان میں سے کتنی درخواستیں قواعد کے خلاف تھیں، اس بارے میں ابھی کوئی سرکاری اعداد و شمار سامنے نہیں آئے ہیں۔

اس پورے معاملے نے تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹوں کی جانچ، ناموں کے حذف اور فارم 7 کے استعمال پر سیاسی بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔ کانگریس اور مجلس دونوں جانب سے انتخابی حکام سے فارم 7 کی سخت جانچ اور درخواست گزاروں کی شناخت کی تصدیق کا مطالبہ کیا جارہا ہے، جبکہ الیکشن حکام کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ حقیقی اعتراضات اور غلط یا غیرضروری درخواستوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔