بھارت

اسدالدین اویسی کا نیا سیاسی پلان، آسام میں بدرالدین اجمل اور بنگال میں ہمایوں کبیر کے ساتھ اتحاد

اویسی پر اکثر بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا الزام لگتا رہا ہے، لیکن وہ مسلسل یہ کہتے آئے ہیں کہ آئینِ ہند انہیں ہر جگہ الیکشن لڑنے کا حق دیتا ہے۔

حیدرآباد: اسدالدین اویسی کی سیاست میں سرگرمی ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے، خاص طور پر بہار اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد ان کے حوصلے کافی بلند دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار وہ مختلف ریاستوں میں اپنی سیاسی موجودگی درج کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اردو جرنلسٹس فیڈریشن کا ایوارڈ فنکشن، علیم الدین کو فوٹو گرافی میں نمایاں خدمات پر اعزاز
آئیے ،ہم مل کر اپنی ناری شکتی کو بااختیار بنائیں!
بی جے پی کی جیت کے سلسلہ پر روک لگانا ضروری:بدر الدین اجمل
چوپایوں کے سرقہ کا شبہ، ہجومی تشدد میں 2 ہلاک
اویسی کا دوٹوک بیان: پاکستان دہشت گردی کی آڑ میں انسانیت کا دشمن

اویسی پر اکثر بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا الزام لگتا رہا ہے، لیکن وہ مسلسل یہ کہتے آئے ہیں کہ آئینِ ہند انہیں ہر جگہ الیکشن لڑنے کا حق دیتا ہے۔

موجودہ وقت میں اویسی مسلمانوں کی ایک بڑی آواز بن کر ابھرے ہیں، خاص طور پر نوجوانوں میں ان کی مقبولیت کافی زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ بہار میں ان کی پارٹی کے 5 ایم ایل ایز کی جیت نے ان کی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے۔

آسام میں اویسی نے ایک الگ حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ انہوں نے وہاں اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا، بلکہ بدرالدین اجمل کی حمایت میں بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ اجمل پہلے کانگریس اتحاد کا حصہ تھے اور 16 سیٹیں جیت چکے تھے، لیکن اس بار کانگریس نے ان سے دوری اختیار کر لی ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اجمل کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ان کی سیاسی حیثیت کمزور ہوئی۔

اب وہ اپنی سیاسی زمین بچانے کے لیے اویسی کے ساتھ کھڑے ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ اوویسی کی مقبولیت انہیں فائدہ پہنچائے گی۔

دوسری طرف مغربی بنگال میں اویسی، ہمایوں کبیر کے ساتھ مل کر میدان میں اتر رہے ہیں۔ بنگال میں مسلم ووٹ ہمیشہ سے فیصلہ کن رہا ہے، اسی لیے دونوں لیڈران نے اپنی توجہ خاص طور پر ان علاقوں پر مرکوز کی ہے جہاں اقلیتی ووٹرز کی تعداد زیادہ ہے، جیسے مالدا اور مرشدآباد۔ اطلاعات کے مطابق یہ اتحاد تقریباً 50 نشستوں پر الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مرشدآباد میں 22 نشستیں ہیں، جہاں پچھلی بار زیادہ تر سیٹیں ترنمول کانگریس نے جیتی تھیں، جبکہ مالدا میں بھی ترنمول کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ ایسے میں اگر ووٹوں کا تھوڑا بھی بٹوارہ ہوتا ہے تو اس کا سیدھا اثر ترنمول کانگریس پر پڑ سکتا ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق، اویسی کی یہ حکمتِ عملی ایک طرف انہیں نئی ریاستوں میں قدم جمانے میں مدد دے سکتی ہے، تو دوسری طرف ووٹوں کی تقسیم کے باعث کچھ جماعتوں کو نقصان اور کچھ کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اوویسی کا یہ سیاسی داؤ کتنا کامیاب ہوتا ہے۔