زندگی کی حرمت کا زوال: قتل کو آسان حل بنانے کی المناک حقیقت
حالیہ دنوں میں، ملک میں خاندانی قتل و غارت گری کے ایسے پریشان کن واقعات دیکھنے میں آئے ہیں جنہوں نے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ حیدرآباد کے علاقے گولکنڈہ میں ایک نوجوان یوٹیوبر کو اس کی محبت کی شادی کی مخالفت پر اس کے برادر نسبتی اور اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر چاقو مار کر قتل کر دیا۔
محمد عبدالجلیل
- حیدرآباد میں یوٹیوبر کا قتل: خاندانی مخالفت اور محبت کی شادی کی المناک قیمت۔
- نلگنڈہ قتل عام: جائیداد کی ہوس نے ماں، سوتیلے باپ اور بچوں کی جانیں لے لیں۔
- پونے میں منگیتر کا قتل: تین دہائیوں کی دوستی اور رشتوں کی دھوکہ دہی۔
حالیہ دنوں میں، ملک میں خاندانی قتل و غارت گری کے ایسے پریشان کن واقعات دیکھنے میں آئے ہیں جنہوں نے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ حیدرآباد کے علاقے گولکنڈہ میں ایک نوجوان یوٹیوبر کو اس کی محبت کی شادی کی مخالفت پر اس کے برادر نسبتی اور اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر چاقو مار کر قتل کر دیا۔ نلگنڈہ میں، ایک بیٹی اور اس کے شوہر نے جائیداد کے ایک تنازعے میں اپنی ماں، سوتیلے باپ اور ان کے دو بچوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے مبینہ طور پر سپاری (کنٹریکٹ ) کِلرز کی خدمات حاصل کیں‘ اور پونے میں، ایک خاتون اور اس کے بوائے فرینڈ نے مبینہ طور پر اپنے منگیتر کو لوہا گڑھ قلعے سے نیچے دھکیل کر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل کیا، جس سے ان خاندانوں کو دھوکہ ملا جو کئی دہائیوں سے دوست تھے۔
یہ وقتی جذبات یا عارضی غصے کے الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں۔ یہ ایک گہرے معاشرتی بگاڑ کی عکاسی کرتے ہیں۔انسانی جان کی قدر و قیمت کے تئیں بڑھتی ہوئی بے حسی، جہاں ذاتی تنازعات کا حل قتل کی شکل میں ایک قابلِ قبول’’راستہ ‘‘بن چکا ہے۔ قارئین کے لیے، جن کی رہنمائی قرآنی تاکید سے ہوتی ہے کہ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا‘‘ (۵-۳۲)، یہ واقعات فوری غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہمارے خاندانوں اور برادریوں میں آخر کیا خرابی پیدا ہو گئی ہے؟
حیدرآباد میں یوٹیوبر کا قتل: پسند کا انکار : شیخ محبوب عرف (چاندی مسعود)، ایک 30سالہ یوٹیوبر اور الیکٹریشن، کو جمعہ کی نماز کے فوراً بعد ان کے اپنے ہی گھر میں قتل کر دیا گیا۔ انہوں نے خاندانی مخالفت کے باوجود تقریباً ڈیڑھ سال قبل محبت کی شادی کی تھی۔ جوڑے کا ایک بچہ بھی تھا، لیکن تناؤ برقرار رہا، جس کا انجام اس صورت میں ہوا کہ سالوں نے بہنوئی کو مبینہ طور پر لوہے کی سلاخوں اور دیگر ہتھیاروں سے حملہ کرکے قتل کردیا۔
اس المیے کو روکا جا سکتا تھا۔ خاندان مخلصانہ گفتگو کر سکتے تھے، بیٹی کو ہم آہنگی اور ذمہ داریوں کے بارے میں سمجھا سکتے تھے، یاجب شادی ہو چکی تھی اور بچہ پیدا ہو گیا تھاتو قبولیت اور صلح کا راستہ چن سکتے تھے۔ اس کے برعکس، انا اور ناپسندیدگی نے رحم اور حقیقت پر غلبہ پا لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مشکل خاندانی معاملات میں بھی صبر اور نرمی کی تعلیم دی ہے۔ تشدد کے ذریعے نتائج حاصل کرنے کی کوشش نہ صرف زندگیوں کو تباہ کرتی ہے بلکہ اس اعتماد کے تانے بانے کو بھی ادھیڑ دیتی ہے جو خاندانوں کو جوڑے رکھتا ہے۔
نلگنڈہ کا خاندانی قتل عام: خون کے رشتوں پر لالچ کا غلبہ : نلگنڈہ میں، حسینہ، ان کے شوہر محمد سلطان اور ان کے دو بچوں کی مسخ شدہ لاشیں اس وقت دریافت ہوئیں جب پڑوسیوں کو شدید بدبو کا احساس ہوا۔ تحقیقات کا اشارہ حسینہ کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹی کی طرف ہے، جو سوتیلے بہن بھائیوں کے حق میں جائیداد کے فیصلوں پر غصے میں تھی، اور اس نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ساتھ مل کر کرایہ کے قاتلوں کو خدمات حاصل کرنے کی سازش کی۔ زہر دینے یا چاقو مارنے کے اس منصوبے کے نتیجے میں ایک پورے خاندان کا بے رحمی سے خاتمہ کر دیا گیا۔
جائیداد کے تنازعات اتنے ہی پرانے ہیں جتنی خود انسانی تاریخ، لیکن اسلامی وراثت کے قوانین (فرائض) اسی افراتفری کو روکنے کے لیے واضح اور منصفانہ رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ کرائے کے قاتلوں کا سہارا لینے کے بجائے، قانونی حقوق کیوں نہ حاصل کیے جائیں، بڑوں یا قاضیوں کے ذریعے ثالثی کیوں نہ کی جائے، یا منصفانہ حصے کو قبول کیوں نہ کیا جائے؟ لالچ نے مجرموں کو اندھا کر دیا کہ وہ ماں، بہن بھائیوں اور امن کے ناقابلِ تلافی نقصان کو نہ دیکھ سکے۔ جب مادی فائدہ خون کے رشتوں پر حاوی ہو جاتا ہے، تو معاشرہ اپنا اخلاقی رخ کھو دیتا ہے۔
پونے کا قتل: اعتماد اور عہد کی دھوکہ دہی : پونے میں، سیا گوئل اور اس کے بوائے فرینڈ چیتن چودھری نے مبینہ طور پر ایک کافی شاپ پر کیتن اگروال کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے لوہا گڑھ قلعے کا مطالعہ کیا اور پھر ایک ٹریکنگ (پہاڑی سیر) کے دوران 25 سالہ تاجر کو 400 فٹ گہری کھائی میں دھکیل دیا۔ خاندان تین دہائیوں سے قریبی دوست تھے، اور نومبر میں شادی اور منگنی کا منصوبہ طے تھا۔
یہاں بھی متبادل راستے موجود تھے۔ سیا ایمانداری سے شادی سے انکار کر سکتی تھی، دونوں خاندانوں کو اپنے جذبات سے آگاہ کر سکتی تھی، یا دیانتداری کا راستہ منتخب کر سکتی تھی۔ منگیتر کا خاندان اور ان کی دیرینہ دوستی اس دھوکے اور پہلے سے سوچے سمجھے منصوبہ بند قتل سے بہتر سلوک کی حقدار تھی۔ ذاتی سہولت کے لیے جس آسانی سے ایک انسانی زندگی کو ختم کر دیا گیا، وہ لرزہ خیز ہے۔
یہ بے حسی کیوں؟ بحران کی جڑیں :اس کے پیچھے کئی باہم جڑے ہوئے عوامل نظر آتے ہیں:روایتی اقدار اور خاندانی اثر و رسوخ کا خاتمہ: تیزی سے بڑھتی ہوئی اربنائزیشن (شہر کاری)، نیوکلیئر (چھوٹے) خاندان، اور نسلوں کے درمیان کمزور ہوتے تعلقات کا مطلب یہ ہے کہ اب تنازعات کو سلجھانے کے لیے بڑے بوڑھے کم ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ صبر، عدل اور صلہ رحمی جیسے تصورات کو اکثر پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا اور فوری تسکین کا رجحان: فلموں/ڈراموں میں انتقامی کہانیوں اور سوشل میڈیا کی چمک دمک بھری زندگیوں کا مسلسل سامنا انتہائی ردعمل کو معمول بنا دیتا ہے۔ وہ تنازعات جن کے لیے کبھی گفتگو کی ضرورت ہوتی تھی، اب آن لائن شدت اختیار کر جاتے ہیں، جس سے رویے مزید سخت ہو جاتے ہیں۔
مادیت پرستی اور کمزور ایمان: جب آخرت پر دنیا غالب آ جائے، تو جائیداد، انا یا رومانوی خواہشات زندگی کی حرمت کو گہنا دیتی ہیں۔ ذہنی صحت کا دباؤ، جذبات پر قابو نہ پانا، اور’’پہلے میں ‘‘کی ثقافت اس صورتحال کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔
بدلتا ہوا معاشرہ: محبت کی شادیاں، خاندانوں کے اندرونی بدلتے ہوئے معاملات، اور مرد و خواتین کے بدلتے ہوئے کردار مناسب طریقہ کار نہ ہونے کی وجہ سے ٹکراؤ پیدا کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھوتے کے ذریعے ’’تلخ حقائق‘‘ کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں، اور سخت شارٹ کٹس کو ترجیح دیتے ہیں۔
لوگ اب رشتوں کو اللہ کی طرف سے دی گئی مقدس امانت کے طور پر نہیں دیکھتے۔ گفتگو بہت دھیما عمل لگتی ہے اور سمجھوتہ کرنا اَنا کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔ پھر بھی تاریخ اور ایمان ہمیں سکھاتے ہیں کہ اصل طاقت ضبطِ نفس اور حکمت میں ہے۔
انسانیت کی بحالی کی پکار : ان قاتلوں کو ہمیں خوابِ غفلت سے جگانا چاہیے۔ خاندانوں کو چاہیے کہ وہ کھلی گفتگو کو دوبارہ فروغ دیں ، تنازعات کے شروع میں ہی خاندان کے بزرگوں یا مذہبی علماء کو شامل کریں، اور بچوں کو ناحق قتل کے خلاف اسلامی ممانعت کی تعلیم دیں۔ والدین کو رہنمائی کرنی چاہیے لیکن شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے بالغ بچوں کی پسند کا احترام کرنا چاہیے، جبکہ شادی شدہ جوڑوں اور رشتہ داروں کو انتقام پر صلح کو ترجیح دینی چاہیے۔ قانونی راستے، کونسلنگ (مشاورت) اور توکل علی اللہ، تشدد کے مقابلے میں کہیں بہتر راستے پیش کرتے ہیں۔
بطور معاشرہ، ہمیں تعلیم، قرآن و سنت کی یاد دہانیوں اور مثبت کہانیوں کے ذریعے اس سفاکی کو معمول بننے سے روکنا ہوگا۔ زندگی اللہ کی امانت ہے۔ اسے معمولی سمجھنا اللہ کے حضور جوابدہی کو دعوت دینا ہے۔
دعا ہے کہ یہ المیے ہمیں ہر جان کی قدر کرنے، ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑنے اور قتل کے بجائے رحم کا راستہ اختیار کرنے کا شعور عطا کریں۔ ہماری برادریاں اور آنے والی نسلیںاسی پر منحصر ہیں۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰