بھائی چارہ، مساوات اور آئینی اصول ہی مضبوط ہندوستان کی بنیاد ہیں طارق انور
انہوں نے "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کے نعرے اور اس کی حقیقت پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے کہا کہ وکاس کا حقیقی مفہوم تبھی پورا ہوتا ہے جب معاشرے کے ہر طبقے کو مساوی مواقع، احترام اور انصاف ملے
نئی دہلی : آل انڈیا قومی تنظیم کے ذریعے آج نئی دہلی میں واقع کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کے اسپیکرز ہال میں "سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور حقیقت” کے عنوان پر ایک اہم قومی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، پروگرام میں اراکین پارلیمنٹ، سابق مرکزی وزراء، مؤرخین، ماہرین عمرانیات، ماہرین تعلیم، سابق عوامی نمائندوں اور ملک بھر سے آئے سماجی کارکنوں نے شرکت کر کے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام کا آغاز آل انڈیا قومی تنظیم کے صدر اور کٹیہار سے رکن پارلیمنٹ مسٹر طارق انور نے کیا۔ اپنے استقبالیہ خطاب میں انہوں نے آل انڈیا قومی تنظیم کے قیام کے دور، اس کی جدوجہد اور تنظیم کے نظریے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی بنیاد ایسے وقت میں رکھی گئی تھی جب ملک میں فرقہ پرستی اور نفرت کی سیاست تیزی سے پھیل رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا قومی تنظیم کا مقصد آئین کی قدروں، سماجی انصاف، بھائی چارے اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کرنا ہے۔
انہوں نے "سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کے نعرے اور اس کی حقیقت پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے کہا کہ وکاس کا حقیقی مفہوم تبھی پورا ہوتا ہے جب معاشرے کے ہر طبقے کو مساوی مواقع، احترام اور انصاف ملے۔
اس کے بعد معروف مصنف اور مؤرخ اشوک پانڈے نے اس سیاسی نعرے کے تاریخی پس منظر اور اس کی حقیقت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مختلف تاریخی واقعات اور سیاسی تناظر کے ذریعے ہمہ گیر ترقّی کے تصور پر اپنے خیالات رکھے۔
معروف ماہر عمرانیات سندیپ پانڈے نے منی پور میں میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان ہونے والے تصادم کی مثال دیتے ہوئے سماجی ہم آہنگی، بات چیت اور آئینی قدروں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی دوریاں صرف منصفانہ نظام اور باہمی اعتماد سے ہی ختم کی جا سکتی ہیں۔
سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا تنوع، ہمہ گیر ثقافت اور آئین ہے۔ انہوں نے کہا کہ "سب کا ساتھ، سب کا وکاس” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ آئینی عزم ہونا چاہیے، جسے عمل میں لانا وقت کی ضرورت ہے۔
پروفیسر اپوروانند نے اپنے طویل تعلیمی اور سماجی تجربات کی بنیاد پر "سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور حقیقت” کے عنوان پر تفصیلی خیالات رکھے۔ انہوں نے آئین کی بنیادی روح، جمہوری قدروں، سماجی مساوات اور شہری حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جمہوریت کی مضبوطی اس کے تنوع، منصفانہ نظام اور تمام طبقات کی مساوی شرکت میں مضمر ہے۔ انہوں نے معاشرے میں بات چیت، بھائی چارے اور آئینی قدروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر خاص زور دیا۔
اس کے بعد راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ پروفیسر منوج کمار جھا نے اپنے طویل پارلیمانی اور سماجی تجربات کی بنیاد پر سماجی انصاف، جمہوری قدروں اور "سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کی عملی صورتحال پر تفصیلی خیالات رکھے۔ انہوں نے کہا کہ وکاس کا فائدہ معاشرے کے آخری فرد تک پہنچنا ہی جمہوریت کی حقیقی کامیابی ہے۔
کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید نے اپنے خطاب میں ہمہ گیر ترقّی، آئینی قدروں اور جمہوری اداروں کی مضبوطی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت تبھی مضبوط ہوگی جب تمام طبقات کی برابر شرکت یقینی بنائی جائے گی۔
سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی نے اپنے جذباتی خطاب میں سماجی ہم آہنگی، آئین کی حفاظت اور جمہوری قدروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو جوڑنے والی سیاست ہی ملک کو آگے لے جا سکتی ہے۔
پروگرام میں متعدد سابق اراکین پارلیمنٹ، سابق وزراء، ماہرین تعلیم، سماجی کارکنوں اور مختلف ریاستوں سے آئے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات رکھے۔ تمام مقررین نے سماجی انصاف، مساوی مواقع، جمہوری قدروں اور ملک کے مشترکہ ورثے کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر آل انڈیا قومی تنظیم کے جنرل سکریٹری محمد ہدایت اللہ جی سمیت مختلف ریاستوں کے صدور، عہدیداروں اور بڑی تعداد میں کارکنوں نے پرجوش انداز میں شرکت کی۔
پروگرام کا اختتام آل انڈیا قومی تنظیم کے صدر اور رکن پارلیمنٹ مسٹر طارق انور کے شکریے کے ساتھ ہوا۔