تلنگانہ

بی آر ایس کا الزام، کانگریس حکومت مفت بجلی ختم کرنے کی سازش رچ رہی ہے

بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے ریاست میں پری پیڈ بجلی میٹر نصب کرنے کے فیصلے پر کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کا اصل مقصد کسانوں کو دی جانے والی مفت بجلی کی سہولت ختم کرنا اور بجلی کے شعبے کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنا ہے۔

حیدرآباد: بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے ریاست میں پری پیڈ بجلی میٹر نصب کرنے کے فیصلے پر کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کا اصل مقصد کسانوں کو دی جانے والی مفت بجلی کی سہولت ختم کرنا اور بجلی کے شعبے کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
سوشل میڈیا پوسٹ، کے ٹی آر کے خلاف 2کیس درج
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر


اتوار کو حیدرآباد کے امبرپیٹ علاقے میں پارٹی کے اہم عہدیداروں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ کانگریس حکومت پورے تلنگانہ میں زرعی موٹروں اور گھروں میں پری پیڈ بجلی میٹر نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ مرحلہ وار مفت بجلی اسکیم کو واپس لیا جا سکے۔


انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس اقدام کے ذریعے بجلی کے شعبے کو نجی کارپوریٹ اداروں کے سپرد کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس نے انتخابات سے پہلے ہی عوام کو خبردار کیا تھا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو مفت بجلی خطرے میں پڑ جائے گی۔


انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مرکزی حکومت کے دباؤ کے باوجود پری پیڈ میٹر لگانے کی مخالفت کی تھی اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا تھا۔


بی آر ایس رہنما نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر الزام لگایا کہ وہ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔


کے ٹی راما راؤ نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مکانات کی مسماری، مجوزہ ’فیوچر سٹی‘ پروجیکٹ اور موسیٰ ندی کی بحالی کے منصوبوں کو عوام مخالف قرار دیا۔


انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی کی رکنیت مہم مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے چلائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل تمام اسمبلی حلقوں میں پارٹی کارکنوں کے لیے تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔