حیدرآباد

اسکول کی ڈائری میں اسلامی اسباق درج ہونے پر تنازع، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں

سپریا گوڑ کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ طلبہ کو اسلامی تعلیمات پڑھنے پر مجبور کر رہی ہے اور اسے لازمی مضمون کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ طلبہ کی ذہن سازی کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی شکایت محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے بھی کریں گی۔

حیدرآباد: ایک اسکول کے طالب علم کی ہوم ورک ڈائری میں اسلامی اسباق درج ہونے کے الزام پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی پولیس نے شکایت درج کرکے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

طالب علم کی رشتہ دار سپریا گوڑ نے الزام لگایا کہ جب انہوں نے بچے کی اسکول ڈائری دیکھی تو اس میں ہوم ورک کے طور پر "کلمہ پڑھیں”، "دینیات” اور اس سے متعلق دیگر ہدایات درج تھیں۔

سپریا گوڑ کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ طلبہ کو اسلامی تعلیمات پڑھنے پر مجبور کر رہی ہے اور اسے لازمی مضمون کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ طلبہ کی ذہن سازی کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی شکایت محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے بھی کریں گی۔

دوسری جانب اسکول انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ دینیات صرف مسلم طلبہ کے لیے مخصوص مضمون ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایک استاد سے ہوم ورک لکھتے وقت غیر ارادی طور پر غلطی ہو گئی، جس کے باعث یہ ہدایات غلطی سے ایک ایسے طالب علم کی ڈائری میں درج ہو گئیں جس کے لیے یہ مضمون نہیں تھا۔

ادھر اس معاملے کی شکایت مقامی پولیس اسٹیشن میں بھی درج کرائی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی جانچ جاری ہے اور تمام حقائق کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس دوران نہ تو پولیس نے اور نہ ہی محکمۂ تعلیم نے اس معاملے میں کسی بھی الزام کی باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے، اور تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔