امریکہ میں مذہبی نفرت، حیدرآباد ی نوجوان پر چاقو سے 15 سے زائد وار (ویڈیو)
امریکہ میں مبینہ مذہبی نفرت پر مبنی حملے کے ایک واقعے میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر شاپنگ مال میں چاقو سے متعدد وار کیے گئے، جس کے بعد اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حیدرآباد (آئی اے این ایس) امریکہ میں مبینہ مذہبی نفرت پر مبنی حملے کے ایک واقعے میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر شاپنگ مال میں چاقو سے متعدد وار کیے گئے، جس کے بعد اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
خاندان کو موصولہ اطلاعات کے مطابق حیدرآباد کے سید سہیل الدین پر امریکی ریاست یوٹاہ کے شہر ویسٹ ویلی سٹی میں واقع ویلی فیئر مال میں ایک شخص نے حملہ کیا۔بتایا جاتا ہے کہ حملہ آور نے چاقو سے حملہ کرنے سے قبل سید سہیل الدین سے پوچھا کہ کیا وہ مسلمان ہیں، اور جواب ملنے کے بعد ان پر 15 سے زائد مرتبہ چاقو سے وار کیے۔
37 سالہ سید سہیل الدین گزشتہ ڈھائی برس سے مذکورہ شاپنگ مال میں ایک کیوسک چلا رہے تھے۔عینی شاہدین نے حملہ آور کو قابو میں کر لیا اور پولیس کے پہنچنے سے پہلے اس سے چاقو چھین لیا۔ پولیس نے حملہ آور کی شناخت 48 سالہ پیٹر مائیکل لارسن کے طور پر کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے پولیس کو بتایا کہ اس نے جان بوجھ کر ایک مسلمان کو نشانہ بنایا اور اسے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔یہ واقعہ 13 جولائی کو پیش آیا۔ حملے کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہیں۔
زخمی سید سہیل الدین کو ویسٹ ویلی سٹی کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔حیدرآباد کے علاقے ٹولی چوکی کے رہنے والے سید سہیل الدین کے اہل خانہ نے ہندستانی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو امریکی حکام کے سامنے اٹھائیں اور اہل خانہ کو امریکہ جانے کے لیے ویزا دلانے کا انتظام کریں۔
حملے کی خبر سن کر سید سہیل الدین کی اہلیہ آمنہ فردوس بے ہوش ہو گئیں۔ ان کے دو بچے ہیں جن کی عمریں پانچ اور تین سال ہیں۔ ان کی سالی اسماء فردوس نے وزیر خارجہ سے اپیل کی کہ وہ امریکی حکام سے رابطہ کریں اور کم از کم دو قریبی رشتہ داروں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ویزا جاری کرانے میں مدد کریں۔مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان نے سید سہیل الدین کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے وزیر خارجہ ایس۔
جے شنکر کو ایک مکتوب ارسال کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واشنگٹن میں ہندستانی سفارت خانہ فوری طور پر سید سہیل الدین سے رابطہ کرے، متعلقہ حکام کے ساتھ تال میل قائم کرے اور زخمی ہندستانی شہری اور ان کے خاندان کو ہر ممکن قونصلر امداد اور تعاون فراہم کرے۔
امجد اللہ خان نے یہ بھی درخواست کی کہ وزیر خارجہ نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے اور حیدرآباد میں امریکی قونصل خانے سے بات کریں تاکہ متاثرہ شخص کے قریبی اہل خانہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہنگامی ویزا جاری کیا جا سکے۔