سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کرنے سے کیا انکار کر دیا
سونم وانگچک نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے 20 جولائی کو ہونے والے "چلو سنسد" مارچ میں بڑی تعداد میں شرکت کریں، تاکہ حکومت تک ایک مضبوط اور واضح پیغام پہنچایا جا سکے۔
نئی دہلی: سماجی کارکن سونم وانگچک نے واضح کیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے کوئی مثبت جواب ملنے تک اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ بغیر کسی سرکاری یقین دہانی کے بھوک ہڑتال ختم کر دیتے ہیں تو اس سے یہ تاثر جائے گا کہ احتجاج کرنے والوں کی آواز کو آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
اپنی بھوک ہڑتال کے اٹھارہویں دن جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں سونم وانگچک نے کہا کہ انہیں ہزاروں افراد کی جانب سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیلیں موصول ہوئی ہیں، جبکہ کئی سینئر سیاسی رہنما بھی ان سے ملاقات کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض افراد نے عدالت سے بھی درخواست کی ہے کہ انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت دی جائے۔
انہوں نے اپنی صحت کے حوالے سے کہا کہ اب تک ہونے والے تمام طبی معائنے، جن میں ای سی جی بھی شامل ہے، اطمینان بخش ہیں اور فی الحال کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ کمزوری محسوس ہو رہی ہے اور جسمانی طاقت میں کمی آئی ہے، تاہم ان کی مجموعی صحت مستحکم ہے اور وہ مزید کئی دن تک بھوک ہڑتال جاری رکھ سکتے ہیں۔
سونم وانگچک نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے 20 جولائی کو ہونے والے "چلو سنسد” مارچ میں بڑی تعداد میں شرکت کریں، تاکہ حکومت تک ایک مضبوط اور واضح پیغام پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بھی اپیل کی کہ 20 جولائی کو طلبہ کو جمہوریت اور سیاسی نظام کا عملی تجربہ فراہم کرنے کے لیے اس مارچ میں شرکت کی ترغیب دی جائے۔
واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی جنتر منتر پر احتجاج کر رہی ہے اور نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن، یعنی 20 جولائی کو "چلو سنسد” مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔