امریکہ میں بھارتی نژاد مسلمان پر مذہب پوچھ کر چاقوؤں سے حملہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم پیٹر مائیکل لارسن نے حملے سے قبل سید سہیل الدین سے ان کا نام، آبائی ملک اور مذہب کے بارے میں سوالات کیے۔ اس کے بعد اس نے مبینہ طور پر ان پر متعدد بار چاقو سے حملہ کیا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔
واشنگٹن: امریکہ کی ریاست یوٹاہ میں ایک بھارتی نژاد مسلمان شخص پر مبینہ طور پر مذہب پوچھنے کے بعد چاقو سے حملہ کیے جانے کا سنگین واقعہ پیش آیا ہے۔ زخمی ہونے والے شخص کی شناخت سید سہیل الدین کے نام سے ہوئی ہے، جو ویسٹ ویلی سٹی کے ایک شاپنگ مال میں ملازمت کرتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم پیٹر مائیکل لارسن نے حملے سے قبل سید سہیل الدین سے ان کا نام، آبائی ملک اور مذہب کے بارے میں سوالات کیے۔ اس کے بعد اس نے مبینہ طور پر ان پر متعدد بار چاقو سے حملہ کیا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔
واقعے کے فوراً بعد سید سہیل الدین کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی سرجری کی گئی۔ عینی شاہدین نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی، جس کے دوران ملزم بھی زخمی ہوا۔ بعد ازاں پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف اقدامِ قتل اور ممنوعہ خطرناک ہتھیار رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالتی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے مذہبی بنیاد پر حملہ کیا اور وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
سان فرانسسکو میں قائم بھارتی قونصل خانے نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متاثرہ شہری کے اہلِ خانہ اور دوستوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور ہر ممکن قونصلر معاونت فراہم کی جائے گی۔ قونصل خانہ مقامی حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہے اور تحقیقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ادھر پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ استغاثہ ملزم کے خلاف مزید الزامات عائد کرنے کا جائزہ لے رہا ہے۔
دریں اثنا، کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (سی اے آئی آر) نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے منتخب عوامی نمائندوں سے اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات کی حوصلہ شکنی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں یوٹاہ میں مسلمانوں کے خلاف ہراسانی، دھمکیوں اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ حملہ وہاں کی مسلم برادری پر ہونے والے انتہائی سنگین واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔