حیدرآبادسوشیل میڈیا

ہندوتوا کے نعروں پر مبینہ ہراسانی کا شکار، آٹو ڈرائیور کو بنڈی سنجے کی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی(ویڈیو)

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بندی سنجے کمار نے ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے، جس نے الزام لگایا ہے کہ حیدرآباد میں اس کی گاڑی پر درج ہندوتو نعروں کی وجہ سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سے وابستہ افراد کے ایک گروپ نے اس پر حملہ کیا، اسے دھمکیاں دیں اور اس کی آٹو کو نقصان پہنچایا۔

حیدرآباد (یو این آئی) مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بندی سنجے کمار نے ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے، جس نے الزام لگایا ہے کہ حیدرآباد میں اس کی گاڑی پر درج ہندوتو نعروں کی وجہ سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سے وابستہ افراد کے ایک گروپ نے اس پر حملہ کیا، اسے دھمکیاں دیں اور اس کی آٹو کو نقصان پہنچایا۔

بندی سنجے کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ونپرتھی ضلع کے رہنے والے 24 سالہ چنچری بھارت کمار نے الزام لگایا کہ 13جولائی کو مہدی پٹنم کے قریب چند افراد نے ان کا آٹو رکشہ روک لیا، اس کا پچھلا کور پھاڑ دیا، اس پر لکھے ہندوتوا نعرے مٹا دیے اور آئندہ ایسے پیغامات آٹو پر درج کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ بعد میں بھارت کمار کو اٹاپور پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر انہیں یہ نعرے ہٹانے کے لیے کہا گیا اور بصورت دیگر قانونی کارروائی کی دھمکی دی گئی۔بیان کے مطابق، ہندوتوا کارکن بھی بھارت کمار کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچے اور آٹو کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے شکایت درج کرائی۔

بعد ازاں یہ کارکن بھارت کمار کو بندی سنجے سے ملانے لے گئے، جہاں مرکزی وزیر نے انہیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آٹو رکشہ کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر بندی سنجے نے ان کے لیے متبادل آٹو رکشہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے کو حیدرآباد کے پولیس کمشنر کے سامنے اٹھائیں گے اور بھارت کمار کی شکایت پر مناسب کارروائی کی درخواست کریں گے۔