قومی

کوئی عبادت گاہ محفوظ نہیں رہے گی: معصوم مرادآبادی

مشاورت کے جنرل سکریٹری معصوم مرادآبادی نے ایک بیان میں کہا کہ اگر عدالتیں یوں ہی یکطرفہ فیصلے صادر کرتی رہیں تو ملک میں کوئی بھی عبادت گاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ) نے ملک میں تاریخی مسجدوں کے تقدس کی پامالی پر سخت تشویش کا اظہارکیا ہے۔ حال ہی میں مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع کمال مولا مسجد کو مندر قراردیئے جانے کے عدالتی فیصلہ کے تناظر میں مشاورت کے جنرل سکریٹری معصوم مرادآبادی نے ایک بیان میں کہا کہ اگر عدالتیں یوں ہی یکطرفہ فیصلے صادر کرتی رہیں تو ملک میں کوئی بھی عبادت گاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کا بنیادی کام تاریخی آثار کو ان کی اصل ہیئت کے ساتھ محفوظ رکھنا ہے اور اگر یہی محکمہ فرقہ وارانہ ایجنڈہ کی تکمیل کا آلہ کار بن جائے تو پھر ملک کی تاریخ اور تہذیب کو محفوظ رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

واضح رہے کہ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلہ میں تاریخی شہادتوں‘ ریونیو ریکارڈ اور دھار ریاست کے گزٹ نوٹیفکیشن کو نظرانداز کرکے محض محکمہ آثار قدیمہ کی مجہول رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے جو انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔

معصوم مرادآبادی نے مزید کہا کہ عدالت عالیہ کی طرف سے 700سالہ قدیم مسجد کو مندر قرار دے کر وہاں پوجا پاٹ کی اجازت دینا انصاف کی روح کے منافی ہے کیونکہ کمال مولا مسجد میں صدیوں سے نماز ہوتی چلی آرہی ہے۔

انہوں نے اس معاملہ میں مدھیہ پردیش کی بی جے پی سرکار کے کردار پر بھی سوال اٹھایا جس نے عدالت میں داخل اپنے حلف نامہ میں یہ سفید جھوٹ بولا کہ یہاں کبھی نماز نہیں ہوئی اس لئے مسلمانوں کو یہاں نماز پڑھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

معصوم مرادآبادی نے کہا کہ عدالتوں میں تاریخی مسجدوں کے خلاف جو مقدمات دائر کئے جارہے ہیں وہ ایک منظم ساز ش کا حصہ ہیں جن کا مقصد اس ملک سے مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کو مٹانا اور ان کے دستوری حقوق کو سلب کرنا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے سپریم کورٹ اس معاملہ میں انصاف کرے کیونکہ اسی نے کمال مولا مسجد کے پیروکاروں سے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے لئے کہا تھا۔