امریکہ۔ایران امن معاہدہ کی نئی تجاویز، ایران کو 25ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی اور 3.67فیصد یورانیم افزودگی کی پیشکش۔ نتن یاہو پریشان
امریکہ نے ایران کو 25 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی اور 3.67فیصد یورانیم افزودگی کی پیشکش کردی ہے۔ ایرانی سیاسی مبصر علی گولہاکی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کو ایک نئی تجویز پیش کی جس میں 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے‘3.67 فی صد یورانیم افزودگی کی اجازت اور محدود مدت کے لیے ایرانی تیل کی فروخت کی سہولت شامل ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کو 25 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی اور 3.67فیصد یورانیم افزودگی کی پیشکش کردی ہے۔ ایرانی سیاسی مبصر علی گولہاکی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کو ایک نئی تجویز پیش کی جس میں 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے‘3.67 فی صد یورانیم افزودگی کی اجازت اور محدود مدت کے لیے ایرانی تیل کی فروخت کی سہولت شامل ہے۔
ایکس پر بیان میں علی گولہاکی نے لکھا امریکہ چاہتا ہے جنگ کے خاتمہ، آبنائے ہرمز کی بحالی‘ پابندیوں میں نرمی اور جوہری اقدامات سے متعلق تمام نکات پر ایک ساتھ اتفاق کیا جائے جبکہ ایران کا مطالبہ ہے کہ ان اقدامات پر 30دن میں عمل درآمد اور توثیق کے بعد ہی جوہری مذاکرات آگے بڑھائے جائیں۔ امریکہ نے پاکستان کے ذریعہ ایران کو نئی تجاویز بھجوا دیں۔ ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعہ نئی امریکی تجاویز ملنے کی توثیق کر دی گئی ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ردعمل میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ دھمکیوں سے پالیسیوں پر اثر نہیں پڑتا۔ امریکی حکام سنجیدگی ثابت کریں‘ منجمد فنڈس کی بحالی‘ امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ واضح مطالبات ہیں۔ امریکہ‘ایران امن معاہدہ کی نئی تجاویز پر نتن یاہو پر گھبراہٹ طاری ہو گئی ہے۔ صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیراعظم شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے 3 امریکی حکام کے حوالہ سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے منگل کو ایران کے ساتھ معاہدہ کی نئی کوشش پر ایک ایسی ٹیلیفونک گفتگو کی جو سخت بدمزہ رہی۔ ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نتن یاہو شدید پریشانی کا شکار تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے نتن یاہو سے تند و تیز لہجہ میں گفتگو کی تھی۔
امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِاعظم کے درمیان یہ گفتگو گزشتہ رات ہوئی۔ اسرائیلی و زیرِاعظم کے دفتر اور وائٹ ہاؤز نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم ذرائع بتا رہے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ سے بات کرکے اسرائیلی و زیراعظم آگ بگولہ ہو گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان نے دیگر علاقائی ثالث ممالک کی مشاورت سے ایک نیا امن مسودہ تیار کیا ہے جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ‘ ایران پر بڑے حملہ کا حکم دینے یا معاہدہ کرنے کے درمیان تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری طرف نتن یاہو مذاکرات کے حوالہ سے شکوک و شبہات رکھتے ہیں اور جنگ دوبارہ شروع کرکے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور اور اہم تنصیبات تباہ کرکے ایرانی حکومت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں جبکہ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کے خیال میں معاہدہ ممکن ہے تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو وہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکہ کی ایران کو 25 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی اور 3.67 فیصد یورانیم افزودگی کی پیشکش میں ٹرمپ نے چہارشنبہ کے دن کوسٹ گارڈ اکیڈمی میں کہا کہ صرف سوال یہ ہے کہ کیا ہم جاکر اس معاملہ کو مکمل طور پر ختم کریں گے یا وہ کسی دستاویز پر دستخط کریں گے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ نتن یاہو ایران کے معاملہ میں وہی کریں گے جو میں چاہوں گا تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں کے تعلقات اچھے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران کے معاملہ پر پہلے بھی وقتی اختلافات رہے ہیں لیکن جنگ کے دوران دونوں قریبی رابطہ میں رہے۔ ایران نے توثیق کی ہے کہ وہ تازہ ترین تجویز کا جائزہ لے رہا ہے تاہم اس نے ابھی تک کسی لچک کا واضح اشارہ نہیں دیا۔ تینوں ذرائع کے مطابق پاکستان‘ قطر‘ سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر گزشتہ کئی دنوں سے مجوزہ مسودہ کو بہتر بنانے اور اختلافات کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ دو عرب حکام اور ایک اسرائیلی ذریعہ کے مطابق قطر نے حال ہی میں امریکہ اور ایران کو ایک نیا مسودہ پیش کیا تاہم چوتھے ذریعہ نے کہا کہ یہ الگ قطری مسودہ نہیں بلکہ قطر سابق پاکستانی تجویز میں موجود اختلافات ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک عرب عہدیدار نے بتایا کہ قطری حکام نے اس ہفتہ کے آغاز میں تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی حکام سے تازہ ترین مسودہ پر بات چیت کی۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ مذاکرات ایران کی 14 نکاتی تجویز کی بنیاد پر جاری ہیں جبکہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ ثالثی میں مدد کے لیے تہران میں موجود ہیں۔ ایک ہفتہ سے کم عرصہ میں وزیرِ داخلہ کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ ایک عرب عہدیدار کے مطابق اس نئی کوشش کا مقصد ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے حوالہ سے زیادہ واضح وعدے لینا اور امریکہ سے منجمد ایرانی فنڈس مرحلہ وار جاری کرنے کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنا ہے۔ تینوں ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی واضح نہیں کہ ایران نئے مسودہ سے اتفاق کرے گا یا اپنے مؤقف میں کوئی بڑی تبدیلی لائے گا۔
ایک قطری سفارت کار نے کہا جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا قطر‘ پاکستانی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور خطہ اور اس کے عوام کے مفاد میں کشیدگی کم کرنے کی مسلسل وکالت کرتا رہا ہے۔ امریکی ذریعہ کے مطابق منگل کی شام ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان طویل اور ”مشکل“گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ممالک ایک لیٹر آف انٹینٹ پر کام کر رہے ہیں جس پر امریکہ اور ایران دستخط کریں گے تاکہ جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو اور 30 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع کیا جاسکے۔ اس عرصہ میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کھولنے جیسے معاملات پر بات چیت ہوگی۔
2 اسرائیلی ذرائع نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ حکمتِ عملی پر اختلاف پایا گیا جبکہ امریکی ذریعہ کے مطابق کال کے بعد بی بی (نتن یاہو) شدید پریشان تھے۔ ذریعہ نے بتایا کہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر نے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ نتن یاہو اس گفتگو پر فکرمند ہیں تاہم اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سفیر نجی گفتگوؤں پر تبصرہ نہیں کرتے۔
2 ذرائع نے نشاندہی کی کہ ماضی میں بھی مذاکرات کے مختلف مراحل پر نتن یاہو شدید تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ چاہے بعد میں معاہدے نہ ہو سکے ہوں۔ ایک ذریعہ نے کہا بی بی ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے امریکہ کو ایرانی جہازوں کے خلاف اپنی قزاقی بند کرنا ہو گی اور منجمد فنڈس جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کرنا ہو گی جبکہ اسرائیل کو لبنان میں جنگ ختم کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ وائٹ ہاؤز اور اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ ایک اسرائیلی ذریعہ کے مطابق نتن یاہو آئندہ چند ہفتوں میں ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جانا چاہتے ہیں۔