سی پی آئی نے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ڈائنامک پرائسنگ سسٹم ختم کرنے کا مطالبہ کیا
کے نارائنا نے الزام لگایا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں اور سامراجی مفادات کے باعث بڑھتے بین الاقوامی تناؤ کی وجہ سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی عالمی تنازعات بڑھتے ہیں تو تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جاتی ہیں، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑتا ہے۔
حیدرآباد: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی مرکزی عاملہ کمیٹی کے رکن کے نارائنا نے ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک بھر کے عام لوگوں پر سنگین اثرات پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں “متحرک قیمتوں کے تعین کے نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
کے نارائنا نے الزام لگایا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں اور سامراجی مفادات کے باعث بڑھتے بین الاقوامی تناؤ کی وجہ سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی عالمی تنازعات بڑھتے ہیں تو تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جاتی ہیں، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مرکزی اور ریاستی حکومتیں پیٹرولیم مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی، سیس اور دیگر ٹیکس لگا کر عوام پر مالی بوجھ بڑھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جس کا اثر ریل کرایوں، ہوائی سفر، مال برداری اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔
بھاکپا رہنما نے مطالبہ کیا کہ ریلوے جیسی عوامی خدمات کو منافع کمانے والے اداروں کے بجائے عوامی خدمت کے اداروں کے طور پر چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے ایندھن پر ٹیکس کی پالیسی کا فوری جائزہ لینے اور عوام کو راحت دینے کے لیے ڈائنامک پرائسنگ نظام ختم کرنے کی اپیل کی۔