وانگچک کے پرامن احتجاج کو کچلنا جمہوریت پر حملہ کانگریس
پولیس براہِ راست وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرتی ہے اور حال ہی میں مقرر کیے گئے نئے پولیس کمشنر کے مدت کار کی شروعات اگر اس طرح کی کارروائی سے ہوتی ہے، تو اس سے ان کی ترجیحات کا پیغام واضح ہو جاتا ہے۔
نئی دہلی : کانگریس نے سونم وانگچک اور ان کے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ سرکار شہریوں کے پرامن طریقے سے احتجاج کرنے کے آئینی حق کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آئین ہر شہری کو آواز اٹھانے اور پرامن طریقے سے احتجاج کرنے کا بنیادی حق دیتا ہے، لیکن وزارتِ داخلہ کا رویہ بتاتا ہے کہ اس نے اسی آئینی حق کو نشانہ بنا لیا ہے۔
ان کا یہ بیان اس کارروائی کے تناظر میں آیا ہے، جس میں سماجی کارکن سونم وانگچک اور ان کے کئی حامیوں کو مظاہرے کے دوران یہاں پولیس نے حراست میں لیا۔ مسٹر کھیڑا نے کہا کہ دہلی پولیس براہِ راست وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرتی ہے اور حال ہی میں مقرر کیے گئے نئے پولیس کمشنر کے مدت کار کی شروعات اگر اس طرح کی کارروائی سے ہوتی ہے، تو اس سے ان کی ترجیحات کا پیغام واضح ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاتون پہلوانوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور سابق فوجیوں کے ساتھ بدسلوکی جیسے واقعات کے بعد اب پرامن مظاہرین کے خلاف کی گئی کارروائی سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ سرکار نہ آئین کا احترام کرتی ہے اور نہ ہی جمہوری اقدار کا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ سرکار پرامن احتجاج کو شہریوں کا جمہوری حق ماننے کے بجائے امن و امان کا مسئلہ سمجھتی ہے اور اسے طاقت کے استعمال سے دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت آج سب سے زیادہ جمہوریت مخالف سوچ رکھنے والے سیاسی نظام کے قبضے میں ہے۔
مسٹر وانگچک کو جنتر منتر سے پولیس نے آج صبح ہسپتال میں داخل کرا دیا۔