یقین دہانی کے باوجود وزیر اعظم مودی نے کی سیاسی بیان بازی: ریڈی
تلنگانہ کے بھونگری لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ چملا کرن کمار ریڈی نے پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا کہ انہوں نے حیدرآباد کے دورے کے دوران سیاسی بیان بازی کی، جبکہ انہوں نے پہلے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سیاست پر بات نہیں کریں گے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے بھونگری لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ چملا کرن کمار ریڈی نے پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا کہ انہوں نے حیدرآباد کے دورے کے دوران سیاسی بیان بازی کی، جبکہ انہوں نے پہلے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سیاست پر بات نہیں کریں گے۔
کانگریس ایم پی نے آج جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے وزیر اعظم کے دورے کے دوران صرف تلنگانہ سے متعلق زیر التوا مسائل کے حل کے لیے مرکز سے تعاون کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں میں وزیر اعلیٰ نے کئی مواقع پر وزیر اعظم اور مرکزی وزراء سے ملاقاتیں کیں اور ریاست کے مختلف مسائل کے حل کے لیے یادداشتیں پیش کیں۔
مسٹر ریڈی نے وزیر اعظم کے حیدرآباد میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ مسٹر مودی نے ترقیاتی مسائل سے ہٹ کر سیاسی تبصرے کیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم سے درخواست کی تھی کہ تلنگانہ کی ترقی کے لیے اتنا ہی تعاون فراہم کیا جائے جتنا کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دورِ اقتدار میں گجرات کو ملا تھا۔
انہوں نے اسے ستم ظریفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر مودی نے مبینہ طور پر یہ کہا کہ اگر کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کی طرح کی مدد دی جاتی، تو تلنگانہ کو موجودہ امداد کا نصف بھی نہ ملتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی معتبر قومی ادارے صرف اسی وقت قائم ہوئے تھے جب مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی۔
مسٹر ریڈی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد سے صرف فرقہ وارانہ تقسیم کو فروغ دینے اور اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا سیاسی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بی جے پی ملک میں واحد بڑی طاقت بنی رہے۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے بالواسطہ طور پر اشارہ دیا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں ترقیاتی امداد حاصل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں بی جے پی کے ساتھ مل جانا چاہیے۔ مسٹر ریڈی نے سوال کیا کہ ’’کیا ترقی صرف وزیر اعظم مودی کے ساتھ جڑنے پر ہی ممکن ہے؟ وزیر اعظم وفاقی نظام کے تحت تمام ریاستوں کی یکساں نمائندگی کرتے ہیں۔”
مسٹر ریڈی نے کہا کہ ریاستیں ٹیکس ریونیو کے اپنے جائز حصے کی حقدار ہیں اور مرکز آئین کے تحت تمام ریاستوں کے ساتھ منصفانہ اور یکساں برتاؤ کرنے کا پابند ہے۔
کانگریس ایم پی نے اس بات کو دہرایا کہ وزیر اعلیٰ ریڈی نے صرف تلنگانہ کی ترقی اور مستقبل کی پیش رفت کے لیے مرکز سے تعاون مانگا تھا، لیکن وزیر اعظم نے اپنی سابقہ یقین دہانی کے باوجود آخر کار سیاسی تبصرہ کرنے کو ترجیح دی۔