نلگنڈہ میں جمعیت علماء تلنگانہ کے زیر اہتمام لیبر کارڈس کی تقسیم، مستحقین میں خوشی کی لہر
یہ پروگرام صدر جمعیت علماء تلنگانہ مولانا سید شاہ احسان الدین قاسمی کی خصوصی ہدایت پر منعقد ہوا، جبکہ اس کی نگرانی جمعیت علماء ضلع نلگنڈہ کے جنرل سکریٹری مولانا اکبر خان اسعدی نے کی۔ پروگرام کے دوران تقریباً 50 مستحق افراد کو لیبر کارڈ فراہم کیے گئے، جس سے مقامی سطح پر خوشی اور اطمینان کی فضا قائم ہوئی۔
نلگنڈہ: جمعیت علماء تلنگانہ کی کاوشوں کے نتیجے میں ضلع نلگنڈہ کے تپرتی منڈل کے موضع امام پیٹ میں ایک اہم عوامی فلاحی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس کے دوران مستحق افراد میں لیبر کارڈس تقسیم کیے گئے۔
یہ پروگرام صدر جمعیت علماء تلنگانہ مولانا سید شاہ احسان الدین قاسمی کی خصوصی ہدایت پر منعقد ہوا، جبکہ اس کی نگرانی جمعیت علماء ضلع نلگنڈہ کے جنرل سکریٹری مولانا اکبر خان اسعدی نے کی۔ پروگرام کے دوران تقریباً 50 مستحق افراد کو لیبر کارڈ فراہم کیے گئے، جس سے مقامی سطح پر خوشی اور اطمینان کی فضا قائم ہوئی۔
جمعیت علماء کی مسلسل رہنمائی اور جدوجہد کے نتیجے میں ضلع کے مختلف دیہاتوں میں سینکڑوں افراد اپنے لیبر کارڈ بنوانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، جسے ایک اہم سماجی خدمت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر جمعیت کے ذمہ داران، مقامی معززین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطابات میں لیبر کارڈ کی اہمیت اور اس کے تحت حاصل ہونے والے سرکاری فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ لیبر کارڈ ہولڈرز کو مختلف فلاحی اسکیمات کے تحت مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جن میں لڑکی کی شادی کے لیے 30 ہزار روپے تک امداد، لڑکی کی پیدائش پر 30 ہزار روپے کی مالی مدد، سڑک حادثات کی صورت میں 4 لاکھ روپے تک انشورنس کور، اور حادثاتی موت کی صورت میں متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے تک امداد شامل ہیں۔
مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس سرکاری سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور جلد از جلد اپنا لیبر کارڈ بنوائیں تاکہ اپنی اور اپنے خاندان کی معاشی بہتری کو یقینی بنا سکیں۔
پروگرام کے اختتام پر مستحقین میں لیبر کارڈس تقسیم کیے گئے۔ جمعیت علماء کے ذمہ داران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اس نوعیت کے فلاحی پروگرام جاری رکھے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اس موقع پر مفتی صہیب اسعدی، صدر جمعیت علماء تپرتی یونٹ، کے علاوہ دیگر اراکین اور مقامی افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔