مہاراشٹرا

ای ۔ 20 پٹرول تنازعہ، مرکزی وزیر نتن گڈکری بمبئی ہائیکورٹ سے رجوع

ہائی کورٹ نے گڈکری کو میٹا سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور نامعلوم افراد کے خلاف دیوانی مقدمہ (سول سوٹ) دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ممبئی: مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری نے ای-20 (E20) ایتھنول پیٹرول پالیسی سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی مبینہ جھوٹی خبروں، ڈیپ فیک ویڈیوز اور گمراہ کن پوسٹوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے اہلِ خانہ کو بھی ای-20 پالیسی سے مالی فائدہ پہنچنے کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا، جس پر انہوں نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

ہائی کورٹ نے گڈکری کو میٹا سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور نامعلوم افراد کے خلاف دیوانی مقدمہ (سول سوٹ) دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اپنی درخواست میں نتن گڈکری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ بے بنیاد دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ای-20 ایتھنول پروگرام سے ان کے خاندان کو فائدہ پہنچا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایتھنول ملاوٹ والے ایندھن کی پالیسی مرکزی وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نافذ کر رہی ہے، اور اس کا ان کے ذاتی یا خاندانی مفادات سے کوئی تعلق نہیں۔

گڈکری کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ مبینہ ڈیپ فیک ویڈیوز اور جھوٹی پوسٹس ممبئی میں بھی دیکھی جا رہی ہیں، اسی لیے اس معاملے کی سماعت کا اختیار بمبئی ہائی کورٹ کو حاصل ہے۔ دلائل سننے کے بعد جسٹس ابھے آہوجا نے دیوانی مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی۔

ادھر، اس معاملے میں دو ہفتے قبل ناگپور میں بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ای-20 پالیسی سے متعلق مرکزی وزیر کے خلاف مبینہ غلط معلومات پھیلانے کے الزام میں چار سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

ایف آئی آر میں یوٹیوبر اور سیاست دان منیش کشیپ، انسٹاگرام پیج "دیشی بوائز” اور ہرشیت راٹھی سمیت دیگر افراد کے نام شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ای-20 ایندھن کی پالیسی پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔ اس ایندھن میں 20 فیصد ایتھنول اور 80 فیصد پیٹرول شامل ہوتا ہے۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ ای-20 ایندھن ان گاڑیوں کے لیے محفوظ ہے جو اس کے مطابق تیار کی گئی ہیں، تاہم بعض گاڑی مالکان، آٹو موبائل ماہرین اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پرانی گاڑیوں کی کارکردگی پر اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔