سوشیل میڈیا

خاتون سوشل میڈیا انفلوئنسر نے مبینہ ہراسانی کرنے والے شخص کو عوام کے سامنے سبق سکھا دیا

واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے خاتون کی بہادری اور اعتماد کی تعریف کی ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی ضروری ہے تاکہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

حیدرآباد میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر نے مبینہ طور پر ہراسانی کرنے والے شخص کو موقع پر ہی سبق سکھا کر شہریوں کی توجہ حاصل کر لی۔ یہ واقعہ ہفتہ کی شب 30 مئی کو بندلہ گوڑہ جاگیر کے پی بی ای ایل سٹی روڈ پر واقع میکڈونلڈز کے باہر پیش آیا، جس کی ویڈیو اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس
نعتیہ کلام دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتا ہے: سعداللہ خان سبیل

اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا انفلوئنسر سدھیشوری سگندھ اپنی گاڑی کے قریب کھڑی تھیں کہ اسی دوران 38 سالہ ایک شخص، جس کی شناخت انیش کے نام سے ہوئی، ان کے پاس آیا۔ الزام ہے کہ اس شخص نے نامناسب انداز میں انہیں چھونے کی کوشش کی اور بعد ازاں اپنا فون نمبر لکھا ہوا ایک ٹشو پیپر انہیں تھما دیا۔ مزید یہ کہ ملزم نے مبینہ طور پر غیر اخلاقی اور نازیبا جملے بھی کہے اور وہاں سے جانے کی کوشش کی۔

تاہم سدھیشوری نے حاضر دماغی اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے روک لیا اور عوام کے سامنے اس کے رویے پر سخت احتجاج کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون نے ملزم سے معافی منگوائی، اسے اٹھک بیٹھک لگوائی اور اپنے نامناسب رویے پر شرمندگی کا اظہار کرنے پر مجبور کیا۔

واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے خاتون کی بہادری اور اعتماد کی تعریف کی ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی ضروری ہے تاکہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر عوامی مقامات پر خواتین کے تحفظ، ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کے تدارک کے لیے سخت قانونی اقدامات کی ضرورت پر بحث چھیڑ دی ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ معاشرے میں محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔