حیدرآباد

شمس آباد ایر پورٹ تک میٹرو لائن کا سنگ بنیاد، کے سی آر کا خطاب

کے سی آر نے کہاکہ ہم حیدرآباد کو مزید ترقی دیتے ہوئے ترقی کی بلندیوں پر پہنچادیں گے۔ بہترین بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ حکومت کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے۔

حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج کہا کہ حکومت، حیدرآباد کو یوروپی شہروں کے طرز پر ترقی کی بلندیوں پر پہنچانے کے لئے پابند ہے۔ آج مائنڈاسپیس جنکشن کے قریب مائنڈ اسپیس تا شمس آباد ایر پورٹ تک 31کیلو میٹر میٹرو ریلوے لائن کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد راجندر نگر پولیس گراونڈ پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ مستقبل میں حیدرآباد آوٹر رنگ روڈ کے اطراف میٹر ریل خدمات کو توسیع دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں مرکز کا تعاون حاصل ہو یانہ ہو، ہم میٹرو ریل خدمات کو توسیع دینے کے پابند عہد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مائنڈ اسپیس تا شمس آباد ائیر پورٹ میٹرو لائن کی تعمیر صدفیصد ریاستی حکومت، حیدرآباد میٹرو پولیٹن اتھاریٹی، جی ایم آر کے فنڈس سے مکمل کی جا ئے گی۔

 کے سی آر نے کہا کہ حیدرآباد(نوابوں کا شہر) دنیا بھر میں مشہور و معروف شہر ہے۔ ایک وقت تھا جب حیدرآباد ملک کے قومی صدر مقام دہلی سے بھی زیادہ وسیع اور کثیر آبادی والا شہر تھا۔ حیدرآباد میں سب سے پہلے1912 میں برقی متعارف کی گئی۔

 اُس وقت چینائی، ممبئی، دہلی میں بھی برقی کا اتہ پتہ نہیں تھا۔ حیدرآباد میں 1912 میں برقی خدمات کا آغاز ہوا جبکہ چینائی میں برقی خدمات 1927میں شروع کی گئیں چیف منسٹر نے حیدرآباد کو حقیقی معنوں میں کاسمو پولیٹن شہر قرار دیتے ہوئے کہا یہاں ہر ذات، مذاہب، علاقوں کے عوام بھائی چارگی کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں۔

 ایک بین لاقوامی شہر میں ایر پورٹ کیلئے میٹرو ریل کے لئے سنگ بنیاد رکھنا خوشی کی بات ہے۔ میں محکمہ بلدیہ، ایچ ایم ڈی اے، میٹرو ریل اور جی ایم آر ائیر پورٹ کے ذمہ داروں کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کے سی آر نے کہا کہ حیدرآباد ایک عظیم تاریخ کا حامل شہر ہے، جس کا حال بھی انتہائی عظیم ہے۔

 ملک کے کئی اور شہر میں حیدرآباد جیسا پیارا ماحول اور خوشگوار موسم نہیں ملے گا۔ یہاں زلزلہ نہیں آتے، درحقیقت کرہ ارض پر سب سے محفوظ شہر حیدرآباد ہی ہے۔یہ شہر مختلف زبانوں اور مختلف تہذیبوں کے ماننے والوں کا گہوارہ ہے۔ کئی ممالک سے حیدرآباد کا تاریخی رشتہ ہے۔

 گلزار ہاوز، تین سو سال قبل حیدرآباد آئے لوگوں کی قدیم بستی ہے۔ یہ تہذیب ہماری اپنی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ یہ شہر سابق میں ویسی ترقی نہیں کرسکا جیسا کرنا چاہئے تھا۔ آندھرائی قیادت کی وجہ سے کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ مناسب طور پر برقی سربراہ نہیں کی گئی۔ صنعتیں اور مزدور متاثر ہوئے۔

صنعت کاروں کی جانب سے اندرا پارک پر دھرنا منظم کرنا عام بات تھی۔ حیدرآباد کی ہر بستی، پانی کی عدم سربراہی سے شدید طور پر متاثر تھی۔ دریا کرشنا اور گوداوری سے پانی کی سربراہی کے کام سست روی کا شکار تھے۔ اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ مسلسل برقی سربراہ کی جارہی ہے۔

 حیدرآباد شہر کو برقی شعبہ سے مربوط کردیا گیا۔ حیدرآباد کو پاور آئی لینڈ میں تبدیل کردیا گیا۔ نیو یارک، پیرس، لندن میں برقی سربراہی منقطع ہوسکتی ہے۔ مگر حیدرآباد میں ایسا نہیں ہوسکتا۔ بہترین شہر تیاری کی سمت گامزن ہے، بڑی بڑی صنعتیں حیدرآباد کا رُخ کررہی ہیں۔

 صنعتی اعتبار سے حیدرآباد کی ترقی قابل رشک ہے۔ فلائی اوورس، انڈر پاس کی تعمیر کے ذریعہ ٹرافک مسائل کا حل دریافت کیا جارہا ہے۔ آفس اسپیس اور رئل اسٹیٹ شعبہ میں مراعات کی فراہمی کی وجہ سے تعمیراتی شعبہ کو فروغ حاصل ہوا ہے۔

حیدرآباد کی معاشی ترقی کی وجہ سے ہوائی سفر کو فروع حاصل ہوا۔ ائیر پورٹ روڈ پر ٹرافک میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ عنقریب ائیر پورٹ پر دوسرا رن وے بھی کارکرد ہوجائے گا۔ مستقبل کی ضروریات کے پیش ن ظر میٹرو رئیل کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔

 اس پراجکٹ کو جلد از جلد مکمل کرتے ہوئے عوام کیلئے کھول دیا جائے گا۔ کے سی آر نے کہا کہ رکن اسمبلی راجندر نگر نے غریبوں کے پاس موجود اراضیات کا حل دریافت کرنے کی خواہش کی ہے۔ اس مسئلہ کا بھی جلد ہی حل دریافت کرلیا جائے گا۔ کورونا کی وجہ سے سرگرمیاں ٹھپ پڑ گئی تھیں۔ حالات اب معمول پر آرہے ہیں۔

 انہوں نے میٹرو ریل کو آلودگی سے پاک ٹرانسپورٹ نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں میٹرو ریل کو مزید توسیع دینے کی ضرورت ہے۔ بی ایچ ای ایل کو میٹر وخدمات سے جوڑنا ہے۔ حیدرآباد کے اطراف تک میٹرو خدمات کو توسیع دی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے حکومت درکار رقم مکمل طور پر خرچ کرنے تیار ہے۔

ہم حیدرآباد کو مزید ترقی دیتے ہوئے ترقی کی بلندیوں پر پہنچادیں گے۔ بہترین بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ حکومت کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے۔

 حیدرآباد کو ورلڈ گرین سیٹی بسٹ ایوارڈ حاصل ہوا ہے اور ہم چاہیں گے کہ حیدرآباد مزید بین الاقوامی ایوارڈس حاصل کرے۔ یہ ایوارڈس ہم کو مزید کرنے کیلئے تحریک دیں گے۔

a3w
a3w