پرائیویٹ اراضی میں مداخلت ، حائیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ پر ہائیکورٹ کی سخت برہمی
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک ہی معاملے میں توہینِ عدالت کی تین الگ الگ درخواستوں کا دائر ہونا انتہائی سنگین معاملہ ہے، جو عدالتی احکامات کے تئیں متعلقہ حکام کے غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے نجی اراضی سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ہائیڈرا (HYDRA) کمشنر اے وی رنگناتھ کے طرزِ عمل پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے مسلسل عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں حکومت اور سرکاری افسران بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک ہی معاملے میں توہینِ عدالت کی تین الگ الگ درخواستوں کا دائر ہونا انتہائی سنگین معاملہ ہے، جو عدالتی احکامات کے تئیں متعلقہ حکام کے غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ جب نجی اراضی میں مداخلت نہ کرنے کے واضح عدالتی احکامات موجود ہیں تو پھر ان احکامات کو بار بار نظر انداز کیوں کیا گیا؟ عدالت نے سخت لہجے میں کہا کہ کیا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے اور کیا توہینِ عدالت کو ایک روایت سمجھ لیا گیا ہے؟
عدالت نے مزید کہا کہ اس معاملے میں متاثرہ فریق صرف درخواست گزار نہیں بلکہ خود عدالت بھی ہے، کیونکہ اس کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ بنچ نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آبی ذخائر، نالوں اور آبی گزرگاہوں کے تحفظ کے نام پر عدالتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے نجی اراضی میں داخل ہونے کا اختیار متعلقہ حکام کو کس قانون کے تحت حاصل ہے؟ عدالت نے مزید کہا کہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی نجی زمین میں داخل نہ ہونے کا بنیادی قانونی اصول کیا متعلقہ حکام کو معلوم نہیں؟
عدالت نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر مقصد واقعی سرکاری اراضی کا تحفظ تھا تو پھر نجی شخص کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
دریں اثنا، عدالت میں پیشی کے موقع پر ہائیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ کو ایک غیر معمولی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
عدالت کے سیکیورٹی عملے نے انہیں وی آئی پی گیٹ نمبر 6 کے بجائے عام شہریوں کے لیے مختص گیٹ نمبر 4 سے داخل ہونے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی گاڑی عوامی پارکنگ میں کھڑی کی اور پیدل چلتے ہوئے عدالت میں داخل ہوئے۔
عدالت نے سماعت کے دوران ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہو یا کوئی سرکاری افسر، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہر متعلقہ ادارے کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔