والدین کی رضامندی اور ڈیٹا تحفظ پر سپریم کورٹ سنجیدہ، CBSE کو APAAR ID فارم میں تبدیلی کا حکم
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت، جسٹس جے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے پیر کے روز سماعت کے دوران کہا کہ چونکہ مرکزی حکومت نے دسمبر 2025 میں اڑیسہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا، اس لیے اس فیصلے پر ملک بھر میں عمل کیا جانا چاہیے۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) کو ہدایت دی ہے کہ APAAR ID (آٹومیٹڈ پرمننٹ اکیڈمک اکاؤنٹ رجسٹری) کے رضامندی فارم (Consent Form) میں قومی سطح پر ضروری ترامیم کی جائیں اور اس سلسلے میں اڑیسہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر پورے ملک میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت، جسٹس جے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے پیر کے روز سماعت کے دوران کہا کہ چونکہ مرکزی حکومت نے دسمبر 2025 میں اڑیسہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا، اس لیے اس فیصلے پر ملک بھر میں عمل کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں CBSE کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ والدین کی رضامندی، طلبہ کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری سے متعلق درخواست گزاروں کے خدشات کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور ان نکات کو رضامندی فارم میں مناسب انداز میں شامل کرے۔
یہ معاملہ چار طلبہ کے والدین کی جانب سے دائر کی گئی ایک درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا، جس میں APAAR ID اسکیم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ اس اسکیم کے تحت طلبہ کے لیے آدھار کارڈ کو لازمی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے رازداری اور ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ APAAR ID کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 (NEP 2020) کے تحت متعارف کرایا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت ہر طالب علم کو ایک منفرد 12 ہندسوں پر مشتمل مستقل شناختی نمبر فراہم کیا جاتا ہے، جس میں اس کے تعلیمی ریکارڈ، مارک شیٹس، اسناد، سرٹیفکیٹس اور دیگر کامیابیوں کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ والدین کی رضامندی اور طلبہ کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ جیسے معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اس لیے CBSE کو چاہیے کہ وہ رضامندی فارم میں مناسب تبدیلیاں کرتے ہوئے رازداری اور شفافیت کے اصولوں کو یقینی بنائے