حیدرآباد کی 250 کروڑ سال پرانی چٹانوں کو حائیڈرا نے بچالیا،30 ہزار کروڑ روپے مالیت کی اراضی پر حفاظتی باڑ لگادی گئی
حکام کے مطابق مختلف سروے نمبرات میں 119.05 ایکڑ سرکاری اراضی موجود ہے۔ مجموعی طور پر 293.05 ایکڑ زمین میں سے 263.05 ایکڑ حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HMDA) کو الاٹ کی گئی تھی۔ تاہم دو دیہات کے درمیان حدودی تنازع کی وجہ سے تقریباً 63.05 ایکڑ اراضی پر نجی افراد نے قبضہ کرلیا، جس کے بعد HMDA کے پاس تقریباً 200 ایکڑ زمین باقی رہ گئی
حیدرآباد: عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر حائیڈرا نے شہر کے تاریخی اور قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے گنڈی پیٹ منڈل کے پُپلا گوڑا اور خواجہ گوڑا کی سرحد پر واقع تقریباً 200 ایکڑ اراضی کو باڑ لگا کر محفوظ کردیا ہے۔
یہ علاقہ اپنی کروڑوں سال قدیم چٹانی ساختوں کی وجہ سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ چٹانیں تقریباً ڈھائی ارب سال پرانی ہیں اور دنیا کے قدیم ترین ارضیاتی ورثوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ حائیڈرا کے مطابق اس زمین کی موجودہ مالیت تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان تاریخی چٹانوں کے تحفظ کے لیے "سوسائٹی ٹو سیو راکس” گزشتہ کئی دہائیوں سے جدوجہد کر رہی ہے۔ تنظیم نے اس معاملے میں تلنگانہ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا، جس کے بعد سال 2019 میں عدالت نے میونسپل اور محکمہ ریونیو کو ان چٹانوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم حدود کے تعین اور باڑ بندی میں تاخیر کے باعث اس علاقے میں تجاوزات کے مسائل پیدا ہوگئے تھے۔
بعد ازاں سوسائٹی کی درخواست پر حائیڈرا نے ریونیو اور میونسپل حکام کے ساتھ مشترکہ سروے کیا اور زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد 200 ایکڑ اراضی کو باقاعدہ طور پر محفوظ بنانے کا فیصلہ کیا۔
حکام کے مطابق مختلف سروے نمبرات میں 119.05 ایکڑ سرکاری اراضی موجود ہے۔ مجموعی طور پر 293.05 ایکڑ زمین میں سے 263.05 ایکڑ حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HMDA) کو الاٹ کی گئی تھی۔ تاہم دو دیہات کے درمیان حدودی تنازع کی وجہ سے تقریباً 63.05 ایکڑ اراضی پر نجی افراد نے قبضہ کرلیا، جس کے بعد HMDA کے پاس تقریباً 200 ایکڑ زمین باقی رہ گئی۔
اس کے علاوہ پانچ ایکڑ زمین مختلف مندروں اور مزید پانچ ایکڑ ایک درگاہ کے لیے مختص کی گئی ہے۔
حائیڈرا اس علاقے سے متصل بھاگیرتھما جھیل کو بھی ترقی دے رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جھیل کی ترقیاتی سرگرمیاں مکمل ہونے کے بعد یہ پورا علاقہ حیدرآباد کے اہم سیاحتی مقامات میں شامل ہوسکتا ہے، جہاں قدرتی حسن، تاریخی چٹانیں اور جھیل ایک منفرد منظر پیش کریں گے۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ تیزی سے پھیلتے شہری علاقوں میں قدرتی ورثے کا تحفظ نہایت ضروری ہے اور یہ اقدام مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا۔