حیدرآباد

عوامی احتجاج کے باعث حیڈرا کی رفتار گھٹ گئی

کانگریس حکومت حیڈرا کے انہدام کی رفتار کو کم کرسکتی ہے۔ آئی ٹی وزیر ڈی سریدھر بابو اور خیریت آباد کے ایم ایل اے ڈی ناگیندر کے بیانات سے کوئی بھی اسے سمجھ سکتا ہے۔

حیدرآباد: کانگریس حکومت حیڈرا کے انہدام کی رفتار کو کم کرسکتی ہے۔ آئی ٹی وزیر ڈی سریدھر بابو اور خیریت آباد کے ایم ایل اے ڈی ناگیندر کے بیانات سے کوئی بھی اسے سمجھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
موسیٰ پروجیکٹ، مکانات کے انہدام کی مخالفت،اندرا پارک پرمہادھرنا
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
حائیڈرا بڑا ڈرامہ: ای راجندر
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

حیڈرا کے خلاف احتجاج اس وقت شروع ہوا جب غیر قانونی تعمیرات کی مسماری سے عام لوگ متاثر ہونے لگے۔ لوگ اب حیڈرا سے ناراض ہیں حالانکہ عہدیداروں نے کہا کہ وہ عام لوگوں کو پریشان نہیں کریں گے مگر وہ بغیر کسی وارننگ کے غریبوں کے مکانات کو گرا رہے ہیں۔

حیڈرا نے ہفتہ اور اتوار کو مکانات نہیں گرائے حالانکہ حکام یہ کہتے رہے کہ وہ مسمار کرنے کے لئے سروے کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے حیڈرا کی کاروایؤں پر بریک لگا دی ہے۔ تاہم، آئی ٹی کے وزیر ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت موسیٰ ندی کے ترقیاتی پروجیکٹ پر توجہ مرکوز کرے گی تاکہ اسے ترقی کی راہداری بنایا جاسکے۔

دریں اثنا دانم ناگیندر نے کہا کہ انہوں نے شروع میں حیڈرا سے کہا تھا کہ وہ کچی آبادیوں کو ہاتھ نہ لگائے اور غریبوں کے مکانات کو گرانا درست نہیں ہے۔ آئی میکس اور جل ویہار جیسی کئی غیر قانونی عمارتیں ہیں جنہیں گرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالہ سے چیف منسٹر کو خط لکھیں گے۔

اگرچہ لوگوں نے شروع میں این کنونشن جیسی عمارتوں کو گرانے پر حیڈرا کی تعریف کی، لیکن غریبوں کے گھروں کو چھونے پر احتجاج شروع ہوا۔ غریبوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے زمینیں خریدی تھیں، ان کے پاس حکومت کی تمام اجازتیں ہیں اور اس کے بعد انہوں نے گھر بنائے تھے۔

حکومت اب ہمارے گھر کیوں گرا رہی ہے۔ حیڈرا کے حوالہ سے دن بدن کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حیڈرا کی رفتار کم ہو گئی ہے کیونکہ حکومت کے خلاف عوامی مخالفت بڑھ رہی ہے۔