بھارت

آبنائے ہرمز پر محفوظ راستے کی کوشش، ہندوستان برطانیہ کی پہل میں شامل

حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان کے چھ جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں، جن میں ایل پی جی، ایل این جی اور دیگر ضروری سامان لے جایا جا رہا تھا۔

نئی دہلی: ایران-اسرائیل کشیدگی کے درمیان  آبنائے ہرمز  سے متعلق ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ہندوستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ  برطانیہ کی اس پہل میں شامل ہوگا جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے۔ وزارت خارجہ امور ہند کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ برطانیہ نے کئی ممالک کو اس معاملے پر مشاورت کے لیے مدعو کیا ہے اور ہندوستان بھی اس میں شریک ہے۔

متعلقہ خبریں
گولف سٹی سے 10ہزار افراد کو روزگار ملنے کی توقع
دہشت گردی سے نمٹنے ورکنگ گروپ قائم ہوگا
جرمنی آبنائے ہرمز میں مشن کے لیے تین بحری جہاز تعینات کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کا دعوی
حیدرآباد، تعمیراتی صنعت میں قائد بن کر ابھرے گا

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے خارجہ سکریٹری اس اہم اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، جبکہ ایران اور دیگر متعلقہ ممالک سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ ہندوستانی جہازوں کے لیے محفوظ اور بلا رکاوٹ راستہ یقینی بنایا جا سکے۔

حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان کے چھ جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں، جن میں ایل پی جی، ایل این جی اور دیگر ضروری سامان لے جایا جا رہا تھا۔

یہ پیشرفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی سپلائی اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے، جبکہ مائع قدرتی گیس (LNG) کی عالمی سپلائی کا بڑا حصہ بھی یہیں سے منتقل ہوتا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اور ماہرین اس صورتحال کا موازنہ 1970 کی تیل بحران سے کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس معاملے پر جمعرات کو 35 ممالک کا ایک ورچوئل اجلاس ہوگا جس کی صدارت برطانیہ کے وزیر خارجہ کریں گے۔ اس میں فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان ، کینیڈا، ساؤتھ کوریا سمیت کئی اہم ممالک کی شرکت متوقع ہے۔ جبکہ خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات، بحرین اور عمان بھی اش میں شامل ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو نہ صرف تیل و گیس بلکہ کھاد، سلفر اور دیگر اہم کیمیکلز کی سپلائی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ قطر سے ہیلیم گیس کی ترسیل پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر عالمی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

ایم ای اے کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ برطانیہ نے ہندوستان سمیت کئی ممالک کو آبنائے ہرمز پر بات چیت کے لیے مدعو کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے سیکرٹری خارجہ آج شام اس میٹنگ میں شرکت کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ایران اور وہاں کے دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں کہ ہم اپنے بحری جہازوں، جو کہ ایل پی جی، ایل این جی اور دیگر سامان لے کر جا رہے ہیں، کی بلا تعطل اور محفوظ گزر گاہ کیسے یقینی بنا سکتے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی بات چیت کے ذریعے، چھ ہندوستانی بحری جہاز آبنائے ہرمز کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اور ہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔”