آبنائے ہرمز کی بحالی کے لئے 30 سے زیادہ ممالک کی میٹنگ
تقریباً 3 درجن ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کے روز ایک میٹنگ میں شرکت کی تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھایا جاسکے۔

لندن (اے پی) تقریباً 3 درجن ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کے روز ایک میٹنگ میں شرکت کی تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھایا جاسکے۔
ایران‘ اسرائیل جنگ کے باعث یہ اہم سمندری راستہ تقریباً بند ہوچکا ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ امریکہ نے جمعرات کی میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ ان کے نزدیک اس آبی گزرگاہ کو کھولنا امریکہ کی ذمہ داری نہیں ہے جو ایران کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں بند ہوئی ہے۔
انہوں نے یوروپی اتحادیوں پر بھی تنقید کی کہ وہ جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے میں ناکام رہے اور ناٹو سے امریکہ کو علیحدہ کرلینے کی دھمکی کو بھی دُہرایا۔
برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کی زیرصدارت ہونے والا یہ ورچول اجلاس ان تمام ممکنہ سفارتی اور سیاسی اقدامات کا جائزہ لے گا جن کے ذریعہ جہازرانی کی آزادی بحال کی جاسکے‘ پھنسے ہوئے جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے اور ضروری اشیاء کی ترسیل دوبارہ شروع ہوسکے۔