وقف املاک کے تحفظ کی جانب بڑا قدم، تلنگانہ نے ریکارڈ منتقل کر دیا
ریاستی تقسیم کے تقریباً بارہ برس بعد تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ نے آندھرا پردیش سے متعلق وقف جائیدادوں کا مکمل ریکارڈ باضابطہ طور پر آندھرا پردیش اسٹیٹ وقف بورڈ کے حوالے کر دیا، جس سے 2014 سے زیر التوا ایک اہم مسئلہ حل ہو گیا۔
امراوتی (آئی اے این ایس) ریاستی تقسیم کے تقریباً بارہ برس بعد تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ نے آندھرا پردیش سے متعلق وقف جائیدادوں کا مکمل ریکارڈ باضابطہ طور پر آندھرا پردیش اسٹیٹ وقف بورڈ کے حوالے کر دیا، جس سے 2014 سے زیر التوا ایک اہم مسئلہ حل ہو گیا۔
آندھرا پردیش وقف بورڈ کے چیئرمین عبدالعزیز نے جمعہ کو بتایا کہ تلنگانہ وقف بورڈ نے 3,503 فائلیں، سروے کمشنر کی 4,050 رپورٹس، سرکاری گزٹ کی دو جلدیں اور دیگر قیمتی تاریخی دستاویزات حوالے کی ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف ریکارڈ کی منتقلی نہیں بلکہ وقف املاک کے تحفظ اور قانونی حقوق کی بحالی کی سمت ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش وقف بورڈ سے متعلق اہم ریکارڈ، سروے فارمس، ضلع واری گزٹ، بورڈ قراردادوں کی نقول اور دیگر دستاویزات تلنگانہ وقف بورڈ کے پاس ہی رہ گئے تھے، جس کے باعث وقف جائیدادوں کے تحفظ، ملکیتی حقوق کے تعین، تجاوزات کے خاتمے اور عدالتی معاملات میں شدید مشکلات پیش آ رہی تھیں۔
عبدالعزیز نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے اس مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تلنگانہ وقف بورڈ کے چیئرمین اور اعلیٰ حکام سے متعدد اجلاس کیے، جس کے نتیجے میں یہ اہم کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تلنگانہ وقف بورڈ پر آندھرا پردیش وقف بورڈ کے تقریباً 55 کروڑ روپے واجب الادا ہیں، جن کی جلد ادائیگی کی بھی توقع ہے۔
انہوں نے اس پیش رفت پر چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو، وزیر نارا لوکیش، این ایم فاروق، تلنگانہ حکومت، تلنگانہ وقف بورڈ کے چیئرمین اور تمام متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے وقف املاک کے قانونی تحفظ اور مستقبل کی انتظامی کارروائیوں کو مزید مضبوطی ملے گی۔