قومی

کیاملک، سیاسی نظریاتی ایجنڈہ پر چلے گا؟مسلمان‘ شریعت مخالف قانون ہرگز قبول نہیں کرسکتے:مولانا ارشد مدنی

صدر جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی نے چہارشنبہ کے دن بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے زیر اقتدار تمام 21 ریاستوں میں یکساں سیول کوڈ (یو سی سی) لاگو کرنے کی تجویز پر تنقید کی۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس) صدر جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی نے چہارشنبہ کے دن بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے زیر اقتدار تمام 21 ریاستوں میں یکساں سیول کوڈ (یو سی سی) لاگو کرنے کی تجویز پر تنقید کی۔

انہوں نے پوچھا کہ آیا ملک دستور سے چلے گا یا ایک سیاسی جماعت کے نظریاتی ایجنڈہ پر چلے گا۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے 13 ستمبر کو کہاتھا کہ سال 2029 سے پہلے این ڈی اے زیراقتدار تمام 21 ریاستوں میں یوسی سی لاگو کردیاجائے گا۔ اگلے لوک سبھا الیکشن سے قبل ایسا کیاجائے گا۔

ان کے اس اعلان کو این ڈی اے شرکاء کی تائید حاصل ہوئی لیکن اپوزیشن جماعتوں اور کئی مسلم تنظیموں نے اس کی مخالفت کی۔ بحث کے دوران مولانا مدنی نے مزید ریاستوں میں یو سی سی کے نفاذ کی تجویز پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا ملک کو دستور کے تحت چلایاجائے گا یا کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی ایجنڈہ کی بنیاد پر؟۔

انہوں نے کہاکہ یو سی سی لاگو کرنا دستور کی بالادستی اور ملک کے شہریوں کو دی گئی مذہبی آزادی کی نفی کرنے کی دانستہ کوششہے۔ جمعیت علمائے ہند چاہتی ہے کہ ملک کے سیکولر دستور‘ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بالا دستی برقرار رہے۔ اسی لیے اس نے یکساں سیول کوڈ کے خلاف اترکھنڈ ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ وہ انصاف ملنے کی امید رکھتی ہے۔

اترا کھنڈ ہائیکورٹ تاحال 6 سماعتیں ہوچکی ہیں۔ کپل سبل اور دیگر وکلاء جمعیت کی طرف سے پیش ہوئے۔ مولانا مدنی نے کسی بھی ایسی قانونی دفعہ کی مخالفت کی جو ان کے بقول اسلامی پرسنل لا سے ٹکراتی ہو۔ انہوں نے کہاکہ ایسا کوئی بھی قانون قبول نہیں کرسکتے جو شریعت کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہاکہ یہ مسئلہ دستوری اور مذہبی حقوق کا ہے۔ مسلمان کسی بھی چیز پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں لیکن اپنے مذہب اور عقیدہ پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

سوال صرف مسلمانوں کی بقاء کا نہیں ہے بلکہ ان کے دستوری اور مذہبی حقوق کا ہے۔ یکساں سیول کوڈ کے ذریعہ حکومت مسلمانوں سے وہ حقوق چھین لیناچاہتی ہے جو انہیں دستور نے دیئے ہیں۔ جمعیت کے صدر نے دلیل دی کہ مسلم پرسنل لا کی مذہبی بنیاد ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ لازمی یکساں سیول کوڈ کی کیا ضرورت ہے جبکہ متبادل دیوانی (سیول) قوانین پہلے سے موجود ہیں۔مسلمانوں کا فیملی لا انسانوں کا بنایاہوا نہیں ہے۔

اسے قرآن و حدیث سے لیاگیا ہے۔ مولانا مدنی نے درج فہرست قبائل کو جو استثنیٰ حاصل ہے اس کا بھی سوال اٹھایا۔ ہمارا ملک سیکولر ہے اور سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کا اپناکوئی دھرم نہیں ہوتا۔ شہریوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ مذہبی آزادی میں مداخلت کرنے والا یکساں سیول کوڈ مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ جمعیت عرصہ سے مطالبہ کررہی ہے کہ گائے کو قومی جانور کا درجہ دیا جائے تاکہ سارے ملک میں اس کا تحفظ ہو۔