تلنگانہ

کے کویتا کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان، بی آر ایس اور کانگریس پر شدید تنقید،بی جے پی پر خاموش

کویتا نے بتایا کہ پارٹی کارکنوں نے عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں سرسیلہ سے 'پدیاترا' کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے پولیس اور شہری حکام سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کے آغاز کے سلسلے میں ہونے والی مہم اور گاڑیوں کی آمد و رفت میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔

حیدرآباد: تلنگانہ جاگرتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے منگل کے روز ریاست کی سیاست میں ایک بڑے دھماکے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی نئی سیاسی جماعت کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید
ریونت ریڈی کرپشن کے شہنشاہ، تلنگانہ کے مفادات کو نظرانداز کر رہے ہیں: کویتا
سرینواس یادو ترقیاتی کاموں میں بری طرح ناکام: ڈاکٹر کوٹا نیلیما کا الزام

بنجارہ ہلز میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی نئی پارٹی کا آغاز 25 اپریل کو ہوگا، جسے وہ ریاست میں ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔

کویتا نے بتایا کہ پارٹی کارکنوں نے عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں سرسیلہ سے ‘پدیاترا’ کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے پولیس اور شہری حکام سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کے آغاز کے سلسلے میں ہونے والی مہم اور گاڑیوں کی آمد و رفت میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔


اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے حکمران جماعت کانگریس اور اپوزیشن بی آر ایس دونوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
کویتا نے الزام لگایا کہ حکومت آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال، پانی کی قلت اور بجلی کی کٹوتی جیسے سنگین مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور کانگریس صرف سیاسی بیان بازی میں مصروف ہیں اور عوامی مسائل پر بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف "سیاسی تھیٹر” کر رہے ہیں۔ انہوں نے بی آر ایس پر خاص طور پر تنقید کی کہ وہ خواتین کے تحفظاتی بل اور حلقہ بندیوں جیسے اہم امور پر مرکز کے خلاف آواز اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔کویتا نے نوجوانوں کو سیاست میں آگے لانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا


"میں اس مٹی کی بیٹی ہونے کے ناطے ایک نئی طرز کی سیاست کے ساتھ آگے آ رہی ہوں۔ تلنگانہ کو ایسی حکمرانی کی ضرورت ہے جس کا مرکز عوام ہوں۔ میں اس نئے سفر کے لیے عوام کی دعاؤں اور آشیرواد کی طالب ہوں۔”


انہوں نے ہڑتال پر بیٹھے آر ٹی سی کارکنوں کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور الزام لگایا کہ ملازمین پر احتجاج ختم کرنے کے لیے غیر ضروری دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔